30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حدیث میں نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اور وہ جنہوں نے بت کے لانے پر شکریہ ادا کیا اور خوش ہوئے ان پر بھی بحکم فقہاء کفر لازم ہے غمز العیون میں ہے:
|
اتفق مشائخنا ان من رأی امرالکفار حسنا فقد کفر[3]۔ |
جس نے کافر کے عمل کو اچھا جانا وہ باتفاق مشائخ کافر ہوجاتا ہے(ت) |
ان پر لازم ہے کہ توبہ کریں اور از سر نو کلمہ اسلام پڑھیں اور اپنی عورتوں سے نکاح جدید کریں واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۷۱: از موضع بیری پور ڈاکخانہ قصبہ علی گڑھ ضلع بریلی مرسلہ خان محمد خاں ۱۳ربیع الآخر شریف ۱۳۳۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید آداب واحکام وارکان شریعت کا محض منکر ہے یعنی اہل ہنود کی پرستش گاہوں پر پوجا کرتا ہے،سراسر جو کام شرك و کفر کے ہنود کرتے ہیں ان کو زید بھی کرتا ہے اور بجائے محفل میلاد شریف کے مثل ہنود کے کتھا کی یعنی برہمن کو بلاکر پوریاں وغیرہ پکواکر اورہنود کو کھلا کر جن مسلمانوں سے رسم تھا ان کو کھلادیں اور ہنود کے ہوم رول میں چندہ دیا اور مسجد کے دینے سے انکار،صوم وصلوٰۃ کا منحرف بایں امور کہ زید میں موجود ہیں،عمر اپنی بیٹی زید کے بیٹے کو دینا چاہتا ہے ہر چند اس سے منع کیا گیا مگر قصدًا رسم گیا حتی کہ تاریخ شادی کی ٹھہرگئی،عمر کی زوجہ نے جواب دیا اور سخت کلامی کی کہ زید اگر بھنگی ہے توہم بھی بھنگی ہیں،عمر سے کہا گیا کہ تم کو اگر زید سے ملنا ہے تو اس کو توبہ استغفار کرادیا جائے،مگر عمر نہ مانا اور شرك و کفر کی حالت میں دیدہ دانستہ قرابت کی،آیا ہم جمیع مسلمان زید وعمر کے ساتھ کیسا معاملہ رکھیں،جو حکم شرع شریف کا ہو،نافذ ہو ایسا شخص بموجب شرع شریف کے مستوجب سزا ہے یانہیں،بینواتوجروا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع