30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قال الزبیر بن بکار بویع یوم الاثنین للیلۃ بقیت من ذی الحجۃ سنۃ ثلاث وعشرین وقتل یوم الجمعۃ لثمان عشرۃ خلت من ذی الحجۃ بعد العصر ودفن لیلۃ السبت بین المغرب والعشاء[1]۔ |
(حضرت زبیر بن بکار کا بیان ہے۔ت)یعنی امیرالمومنین عثمان غنی رضی اﷲتعالٰی عنہ کی بیعت یوم الاثنین ذی الحجہ کی آخری شب ۲۳ہجری کو کی گئی ۱۸ذی الحجہ ۳۵ھ روز جمعہ بعد عصر شہید ہوئے اور اسی شام کو مغرب کے بعد عشاء سے پہلے دفن ہوئے۔ |
شاہ عبدالعزیز صاحب نے تحفہ اثناعشریہ میں امیرالمومنین ذوالنورین رضی اﷲ تعالٰی عنہم پر رافضیوں کے دسویں طعن میں ان ملاعین سے نقل کیا کہ:
|
"بعداز قتل اوراسہ روز اوفتادہ گزاشتند وبدفن او نپر داختند[2]"۔ |
قتل کے بعدانہیں تین دن تك ایسے ہی پھینك دیا گیا اور دفن نہ ہونے دیا گیا۔(ت) |
وہ کتوں کا لفظ اس طعن میں بھی نہیں،پھر جواب میں بہت روایات ذکر کرکے فرمایا:
|
ازیں روایات مشہورہ متعدد ہ ثابت شد کہ تاسہ روز اوفتادہ ماندن لاش عثمان(رضی اﷲ تعالٰی عنہ)محض افتراء ودروغ ست ودرجمیع تواریخ تکذیب آں موجودست زیراکہ باجماع مؤرخین شہادتِ عثمان(رضی اﷲ تعالٰی عنہ)بعد از عصر روز جمعہ ہیژ دہم ذی الحجہ واقعہ شدہ است ودفن اودربقیع شب شنبہ وقوع یافت بلاشبہ انتہی[3]۔ ورأیتنی کتبت فی بعض تعلیقاتی الحدیثیۃ وھذا ایضا تجاوز نعم لاتقبل المناکیر المنکرات فی مقابلۃ المشہورات المقبولات |
ان تمام مشہور روایات سے ثابت ہورہا ہے کہ حضرت عثمان(رضی اﷲ عنہ)کی لاش کا تین دن تك پڑے رہنے کا واقعہ محض افتراء اور جھوٹ ہے اور تمام کتب تاریخ میں اس کی تکذیب موجود ہے کیونکہ تمام مورخین کا اتفاق ہے کہ حضرت عثمان(رضی اﷲعنہ)کی شہادت ۱۸ ذو الحجہ بروز جمعۃ المبارك بعد نماز عصر ہوئی اور بلاشبہہ ہفتہ کی رات بقیع شریف میں تدفین ہوئی انتہی۔(ت) مجھے یا دپڑتا ہے کہ میں نے بھی اپنے بعض حواشی میں یہی بات لکھی ہے اور یہ بھی تجاوز ہے ہاں مشہور ومقبول روایات کے مقابلے میں مناکیرو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع