30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۱)آیا کلام ولید میں اس تاویل کی گنجائش ہے؟
(۲)محض لفظ سخی کے اطلاق پر انکار وہ تھا جو حمید نے کیا یا یہ جو ولید نے کہا؟
(۳)منشائے اطلاق یعنی عطا کو دو شقوں میں منحصر کردینا ایك وہ کہ خدا میں بھی نہیں دوسرے وہ کہ بھنگی چمار میں ہے اور اس بناپراسے کمالاتِ الٰہیہ سے نہ جاننا اور خد ااوراس کے غیر ہر بھنگی چمار میں فرق پوچھنا محض اطلاق لفظ سخی کا انکار ہوگا یااﷲ عزوجل کی صفت کمالیہ عطا کاصریح ابطال ہوگا؟
(۴)اس تقریر سے عطا کو کمالاتِ الٰہیہ سے نہ جاننا اور خدا اور بھنگی چمار میں فرق پوچھنا اور اﷲتعالٰی کی خصوصیت نہ جاننا ہر بھنگی چمار کے لئے بھی حاصل ماننا یہ توہین شان عزت ہے یانہیں؟
(۵)اس کلام کے سننے سے کسی طرح کسی کا ذہن اس طرف جاسکتا ہے کہ یہ ابطال عطائے الٰہی نہیں نہ اس کے کمال پر حملہ نہ اس قسم عطا میں جو اسے حاصل ہے،اس کی خصوصیت کا انکار نہ ہر بھنگی چمار کی اس میں شرکت کا اظہار بلکہ باوصف صحت معنی وحصول مبنی صرف بالخصوص لفظ سخی پر انکار ہے۔
(۶)جو معنی کسی طرح کلام سے مفہوم نہ ہو سکیں کیا ان کی طرف پھیرنا کفر کانافی ہوسکتا ہے،شفائے امام قاضی عیاض وغیرہ کتب معتمدہ ائمہ میں تصریح ہے کہ التاویل فی لفظ صراح لایقبل [1](صریح الفاظ میں تاویل مقبول نہیں ہوتی۔ت)ایسی تاویل مسموع ہوتو کوئی کلام کفر نہ ٹھہرسکے،"اردت برسول اﷲ العقرب"(میں نے رسول اﷲ سے مراد بچھو لیا ہے۔ت)کی تاویل اس تاویل سے قریب تر ہے یانہیں کہ بلاشبہہ عقرب بھی خداہی کا بھیجا ہوا ہے۔
(۷)صحیح بخاری شریف میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد کہ ذٰلك اخبات النفاق[2] (یہ نفاق کا خضوع ہے۔ ت)اس خشوع وخضوع کا جواب کافی ہے یا یہ کہ کوئی کیسا ہی کفر کرے جب بعض اعمال صالحہ کرتا ہو کافر نہیں ہوسکتا۔ بینو اتوجروا۔
مسئلہ۶۶: ازیازیدپور ضلع پٹنہ مرسلہ عبدالصمد صاحب ۲۱محرم الحرام ۱۳۳۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ امکان نسخ نہیں بلکہ وقوع نسخ کا ماننا فرض ہے یا واجب یا مستحب جس کو دوسرے لفظوں میں یوں صاف کرسکتے ہیں کہ وقوع نسخ پر دلیل قطعی یعنی آیت قرآنی یاحدیث متواتر ہے یا دلیل ظنی ہے اس کا منکر کافر ہوگایا فاسق ؟بینوا توجروا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع