30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۳)جو مرد اس عقیدہ پر ہوں یا اس پر مطلع ہوکراس عقیدہ والے کو کافر نہ جانتے ہوں ان سب کے نکاح ٹوٹ گئے،عورتیں ان سے اپنے مہر کافی الحال مطالبہ کرسکتی ہیں اور بعد عدت جس سے چاہیں اپنانکاح کرسکتی ہیں اور عورتوں میں جو کوئی اس حقیقتِ حال سے آگاہ ہو اور جان بوجھ کر اسے کافر نہ جانے وہ بھی کافرہ ہوگئی،مگر حسبِ روایت مفتی بہا اپنے شوہرمسلمان کے نکاح سے نہ نکلے گی نہ اسے اختیار ہوگا کہ دوسرے سے نکاح کرے،ہاں ان کے شوہروں کو جائز نہ ہوگا کہ انہیں ہاتھ لگائیں جب تك وہ تائب ہوکر پھر اسلام نہ لائیں۔
(۴)قاضی مذکور کے سامنے شہادتیں پیش ہونے کا کیا ذکر جبکہ سوال میں مذکور کہ سورہ والضحٰی شریف دکھا کر وہ الفاظ قاضی کے سامنے کہے اس صورت میں قاضی خود اس شخص کے ان احکام میں شریك ہے،اس کے پیچھے نماز محض باطل اور اس سے میل جول حرام اور اس سے نکاح پڑھوانا جائز نہیں۔
(۵)جو شخص توبہ کرچکا ہو اسپر کفر کا فتوٰی منگا نا سخت عذاب کااستحقاق ہے اور مسلمان کو بلاوجہ کافرکہنے پر حدیث صحیح میں ارشاد فرمایا کہ وہ کہنا اس کہنے والے ہی پر پلٹ آئے گا یعنی جب کہ بروجہ اعتقاد ہو اور بروجہ سب ودشنام تواشد کبیرہ،واﷲ تعالٰی اعلم۔اور زیادہ تفصیل ہمارے فتاوٰی میں ہے۔
مسئلہ۶۲: ازریاست کوٹہ راجپوتانہ مرسلہ ملامحمد رمضان پیش امام مسجد نیاپورہ مورخہ ۲ذیقعدہ ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ عبدالقادر نے حضور سرور عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی توہین کی ہے اور اس پر علماء کا فتوٰی کفر کاآچکا ہے اور وہ توبہ سے انکار کرتا ہے اس کا نکاح ٹوٹ گیا یانہیں،اور اس کے بھائی بھتیجے اس کو مسلمان سمجھتے ہیں اور اس کے معاون ہیں ان کا نکاح بھی عندالشرع ٹوٹ گیا یانہیں،اور اگر ٹوٹ گیا ہے تو ان کی مطلقہ بیویوں کا نکاح دوسرے مسلمانوں سے جائز ہے یانہیں اور وہ مطلقہ بیویاں مہر کی لین دار ہیں یانہیں؟ اس کا جواب بحوالہ کتبِ معتبرہ عطا فرمایا جائے،عنداﷲ ماجور ہوں گے۔
الجواب:
جو شخص حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی توہین کرے یقینا کافر ہے اس کی عورت اس کے نکاح سے نکل گئی اور جو اس کی توہین پر مطلع ہو کر اسے مسلمان جانے وہ بھی کافرہے ایسے جتنے لوگ ہوں خواہ توہین کرنے والوں کے عزیز قریب ہوں یا غیر ان سب کی عورتیں ان کے نکاح سے نکل گئیں اور فی الحال وہ اپنے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع