30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
ایسا شخص گمراہ،بددین،مسخرہ شیاطین ہے بلکہ اس پر حکم کفر کا لزوم ہے۔مسلمانوں کو ایسے لوگوں سے میل جول،مناکحت درکنار انکےپاس بیٹھنا منع ہے۔
|
قال اﷲ تعالٰیؕ اِمَّا یُنۡسِیَنَّکَ الشَّیۡطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۶۸﴾"[1]۔ |
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:اور جو کہیں تجھے شیطان بھلادے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔(ت) |
مجمع الانہر میں ہے:
|
الاستخفاف بالاشراف والعلماء کفر ومن قال للعالم عویلم او لعلوی علیوی قاصدا بہ الاستخفاف کفر[2]۔ |
یعنی سادات وعلماء کی توہین کفر ہے اور جو بنظر توہین کسی عالم کو مولویا یاسیدکو میر واکہے وہ کافر ہوجائے گا،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
مسئلہ۵۶: مرسلہ جناب قاضی ارشاد احمد صاحب از بیسل پور ضلع پیلی بھیت ۵ذیقعدہ ۱۳۳۵ھ
ایك واعظ نے یہ بیان کیا کہ ایك مرتبہ جناب رسول کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے دریافت کیا کہ تم وحی کہاں سے اور کس طرح لاتے ہو؟آپ نے جواب عرض کیا کہ ایك پردہ سے آواز سے آتی ہے۔آپ نے دریافت فرمایا کہ کبھی تم نے پردہ اٹھا کر دیکھا؟انہوں نے جواب دیا کہ میری یہ مجال نہیں کہ پردہ کو اٹھاؤں۔آپ نے فرمایا کہ اب کی مرتبہ پردہ اٹھاکردیکھنا۔حضرت جبرئیل نے ایسا ہی کیا،کیادیکھتے ہیں کہ پردہ کے اندرخود حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم جلوہ افروز ہیں اور عمامہ سر پر باندھے ہیں اور سامنے شیشہ رکھا ہے اور فرمارہے ہیں کہ میرے بندے کو یہ ہدایت کرنا،یہ روایت کہاں تك صحیح ہے،اگر غلط ہے تو اس کا بیان کرنے والا کس حکم کے تحت میں داخل ہے؟
الجواب:
یہ روایت محض جھوٹ اور کذب وافتراء ہے اور اس کا بیان کرنے والا ابلیس کا مسخرہ اور اگر اس کے ظاہر مضمون کا معتقد ہے تو صریح کافر۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۵۷تا۶۱: ازریاست کوٹہ راجپوتانہ مرسلہ ملامحمد رمضان پیش امام مسند نیاپورہ ۲۰ذیقعدہ ۱۳۳۵ھ
(۱)اول عبدالقادر جس نے یہ کلمات کہے ہیں وہ کافر ہے یانہیں؟اگر اس کے کفر میں شك کرے اس کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع