30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تعالٰی علیہ وسلم کی شان اقدس میں یہ معاف کردے،گویا یہ کہے کہ اگرچہ تونے میرے نبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کو برا کہا مگر میں اس کی پروا نہیں کرتا،میں نے کہا بے کہا کردیا،معترض ایسا کہتا تو اسے خود اپنے ایمان کے لالے پڑتے۔زید کا حق عمرو،عمروکا حق زید معاف نہیں کرسکتا،وہ بے ادب کہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے حق میں گرفتار ہو اسے زید وعمرو کیونکر معاف کردیں،درمختار میں ہے:
|
الکافر بسب نبی من الانبیاء لاتقبل توبتہ مطلقا ولوسب اﷲ تعالٰی قبلت لانہ حق اﷲ تعالٰی والاول حق عبدلایزول بالتوبۃ ومن شك فی عذابہ وکفرہ کفر[1]۔ |
جو کسی نبی کو گالی دینے کی وجہ سے کافر ہو ااس کی توبہ کسی حال میں قبول نہیں،اور اگر اﷲ تعالٰی کو گالی دی تو توبہ مقبول ہے کیونکہ یہ اﷲ تعالٰی کا حق ہے،اور پہلا بندے کا حق ہے جو توبہ سے زائل نہیں ہوتا اور جس نے بھی اس کے عذاب و کفر میں شك کیا وہ کافر ہوجائے گا۔ |
انکارِ استمداد واستعانت اور وہ بھی خود حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے،اور وہ بھی اس ملعون خیال پر کہ مردہ ہیں،ان پر تو شخص مذکور اب بھی قائم ہے ایك لفظ"مردہ"کو اس کے معنی سے تبدیل کرتا ہے،یہ تمام عقائد وخیالات وہابیہ کے ہیں اور وہابیہ کی امامت ہر گز نہیں،اور ان کے پیچھے نماز باطل محض ہے،فتح القدیر میں ہے:
|
روی محمد عن ابی حنیفۃ وابی یوسف رضی اﷲ تعالٰی عنہم ان الصّلٰوۃ خلف اھل الاھواء لاتجوز [2] اھ وقد حققنا بما لامزید علیہ فی النھی الاکید۔ |
امام محمد نے امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے نقل کیا کہ اہل بدعت کی اقتداء میں نماز نہیں ہوتی، اس کی بے مثل تفصیل ہم نے اپنے رسالہ"النہی الاکید"میں کی ہے۔ |
جس مسلمان نے وہ کلمات سن کر اس کے پیچھے نماز سے احتراز کے لئے اپنے مکان کو مسجد کرکے اس میں جمعہ و جماعت شروع کردی اس کے لئے اﷲ عزوجل کے یہاں اجر عظیم ہے ان شاء اﷲ الکریم،واﷲ تعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع