30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
العلماء ان شاتمہ کافر ومن شك فی عذابہ وکفرہ کفر[1]۔ |
مرحومہ کا اجماع ہے اس پر کہ وہ کافر ہے اور جو اس کے کفر میں شك کرے وہ بھی کافر ہے۔ |
غنیۃ ذوالاحکام ص۳۰۱:
|
محل قبول توبۃ المرتد مالم تکن ردتہ بسب النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فان کان بہ لاتقبل توبتہ سواء جاء تائبا من نفسہ او شھد علیہ بذلك بخلاف غیرہ من المکفرات[2]۔ |
یعنی نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی اور کفروں کی طرح نہیں ہر طرح کے مرتد کو بعد توبہ معافی دینے کا حکم ہے مگر اس کافر مرتد کے لئے اس کی اجازت نہیں۔ |
اشباہ والنظائر قلمی،باب الردۃ:
|
لاتصح ردۃ السکران الاالردۃ بسب النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فانہ لایعفی عنہ کذافی البزازیۃ وحکم الردۃ بینونۃ امرأتہ مطلقا[3] (ای سواء رجع او لم یرجع اھ غمز العیون[4])واذا مات علی ردتہ لم یدفن فی مقابرالمسلمین ولااھل ملۃ وانمایلقی فی حفرۃ کالکلب،والمرتد اقبح کفرامن الکافر الاصلی، و اذا شھد واعلی مسلم بالردۃ وھو منکر لایتعرض لہ لا لتکذیب |
یعنی نشہ کی بیہوشی میں اگر کسی سے کفر کی کوئی بات نکل جائے اسے بوجہ بیہوشی کافر نہ کہیں گے نہ سزائے کفر دیں گے مگر نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی وہ کفر ہے کہ نشہ کی بیہوشی سے بھی صادرہوا تو اسے معافی نہ دینگے کذافی البزازیہ اور معاذاﷲ ارتداد کا حکم یہ ہے کہ اس کی عورت فورًااس کے نکاح سے نکل جاتی ہے اگر یہ بعد کو پھر اسلام لائے جب بھی عورت نکاح میں واپس نہ جائے گی اور جب وہ اسی ارتداد پر مرجائے والعیاذ باﷲ تعالٰی تو اسے مسلمانوں کے مقابر میں دفن کرنے کی اجازت نہیں نہ کسی ملت والے مثلًا یہودی یا نصرانی کے گور ستان میں دفن کیاجائے |
[1] الدررالحکام شرح غررالاحکام فصل فی الجزیہ احمد کامل الکائنہ فی دارالسعادت بیروت ۱/ ۳۰۰۔۲۹۹
[2] غنیہ ذوی الاحکام فی دررالاحکام باب المرتد احمد کامل الکائنہ فی دارالسعادت بیروت ۱/ ۳۰۱
[3] الاشباہ والنظائر باب الردۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۲۸۹تا۲۹۱
[4] غمزعیون البصائر شرح اشباہ والنظائر مع الاشباہ باب المرتد ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۲۹۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع