30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آسکتیں انہیں اب بھی اختیار ہوگا کہ چاہیں دوسرے سے نکاح کرلیں یا کسی سے نہ کریں ان پر کوئی جبر نہیں پہنچتا ہاں ان کی مرضی ہوتو بعداسلام ان سے بھی نکاح کرسکیں گی۔شفاء شریف صفحہ ۳۲۱:
|
اجمع العلماء ان شاتم النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم المنتقص لہ کافر والوعید جارعلیہ بعذاب اﷲ تعالٰی لہ وحکمہ عند الامۃ القتل ومن شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر[1]۔ |
یعنی اجماع ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والا کافر ہے اور اس پر عذاب الٰہی کی وعید جاری ہے اور امت کے نزدیك وہ واجب القتل ہے اور جو اس کے کافر و مستحق عذاب ہونے میں شك کرے وہ بھی کافر ہوگیا۔ |
نسیم الریاض جلد چہارم ص۳۸۱میں امام ابن حجرمکی سے ہے:
|
ماصرح بہ من کفر الساب والشاك فی کفرہ ھو ماعلیہ ائمتناوغیرہم[2]۔ |
یعنی جو یہ ارشاد فرمایا کہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والا کافر اور جو اس کے کافر ہونے میں شك کرے وہ کافر،یہی مذہب ہمارے ائمہ وغیرہم کا ہے۔ |
وجیز امام کردری جلد۳ص۳۲۱:
|
لو ارتد والعیاذ باﷲ تعالٰی تحرم امرأتہ ویجدد النکاح بعد اسلامہ،والمولود بینھما قبل تجدید النکاح بالوطی بعد التکلم بکلمۃ الکفر ولدزنا ثم ان اتی بکلمۃ الشہادۃ علی العادۃ لایجدیہ مالم یرجع عما قالہ لان باتیانھما علی العادۃ لایرتفع الکفر الا اذاسب الرسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اوواحدا من الانبیاء علیھم الصلٰوۃ و |
یعنی جو شخص معاذا ﷲ مرتد ہوجائے اس کی عورت حرام ہوجاتی ہے،پھر اسلام لائے تو اس سے جدید نکاح کیا جائے اس سے پہلے اس کلمہ کفر کے بعد کی صحبت سے جو بچہ ہوگا حرامی ہوگا اور یہ شخص اگر عادت کے طور پر کلمہ شہادت پڑھتا رہے گا کچھ فائدہ نہ دے گا جب تك اپنے اس کفر سے توبہ نہ کرے کہ عادت کے طور پر مرتد کے کلمہ پڑھنے سے اس کاکفر نہیں جاتا جو رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم یا کسی نبی کی شان میں گستاخی کرے دنیا میں بعد توبہ بھی اسے قتل کی سزادی جائےگی یہاں تك کہ اگر نشہ کی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع