30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اواحدھما[1]۔ |
تعالٰی عنہما یا ان میں سے ایك کو گالی دی ہو۔(ت) |
اس روایت س معلوم ہوا کہ انبیاء کی شان میں گستاخی کرنے والا مرتد ہے اور اگر وہ توبہ کرے تو اس کی توبہ بھی قبول نہیں،شفاء ص۳۹۳میں ہے کہ رسول اﷲ صلی تعالٰی علیہ وسلم کا بر اکہنے والا کافر ہے اور اس پر علماء کا اجماع ہے[2]۔منجملہ علماء کے امام مالك ارو امام لیث بن سعد مصری اور امام شافعی اور امام ابوحنیفہ اور امام احمد بن حنبل و امام ابویوسف و امام محمد وزفر وسفیان ثوری واہل کوفہ وامام اوزاعی اور علمائے اسلام کہ ومدینہ وبغداد و مصر ہیں اور اس میں سے کسی نے بھی شاتم الرسول کے مباح الدم ہونے میں خلاف نہیں کیا،واﷲ اعلم
کتبہ الفقیر الی اﷲ عزّوجل عبدالاوّل الحنفی الجونپوری ۱۳شعبان ۱۳۳۵ھ(عبدالاول بن علی جونپوری۱۳۰۲)
ساب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا کافر ہے،بغیر تجدید ایمان کے اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی،صحیح یہ ہے کہ تجدید ایمان کے بعد سزائے قتل نہ ہوگی جیسا کہ تنقیح حامدیہ میں ہے،ہاں اگر وہ مرتد توبہ نصوح کرے اور پھر اس سے ایمان لائے اور اپنا اسلام اور حال ٹھیك رکھے تو اس کی توبہ قبول ہونے پر بھی صاف نہ چھوڑا جائے گا بلکہ تعزیر وحبس کا مستحق ہوگا۔ جیسا کہ تنقیح میں ہے:
|
ویکتفی بالتعزیر والحبس تأدیبا[3]۔ |
ادب کے پیش نظر صرف تعزیر اور قید کی سزا پر اکتفاء کیا جائیگا۔(ت) |
رقمہ راجی رحمۃ رب العباد محمد حماد نجل الشیخ دین سے خارج و مرتد ہوجاتا ہے۔حضرت عمر بن عبدالعزیز مجدد خلیفہ راشد کا یہی مذہب ہے کہ ساب رسول کو سزائے قتل دی جائے مگر جب کہ تجدید ایمان و حسن اسلام لائے۔
حررہ عبدالباطن بن مولانا الشیخ عبدالاول الجونفوری
الجواب:
|
" رَّبِّ اَعُوۡذُ بِکَ مِنْ ہَمَزٰتِ الشَّیٰطِیۡنِ ﴿ۙ۹۷﴾ وَ اَعُوۡذُ بِکَ رَبِّ اَنۡ یَّحْضُرُوۡنِ ﴿۹۸﴾ "[4] |
اے مریے رب تیری پناہ شیطان کے وسوسوں سے اور اے میرے رب تیری پناہ کہ وہ میرے پاس آئیں۔ |
[1] الاشباہ والنظائر کتاب السیر باب الردۃ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱/ ۲۸۹
[2] الشفاء بتعریف حقوق المصطفی القسم الرابع الباب الاول شرکۃ صحافیہ فی البلاد العثمانیہ ۲/۲۰۸
[3] العقودالدریۃ فی تنقیح فتاوٰی حامدیہ احکام المرتدین حاجی عبدالغفار و پسران قندھار افغانستان ۱/ ۱۰۷
[4] القرآن الکریم ۲۳/ ۹۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع