30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فواتح الرحموت میں ہے:
|
عن ابیہ ملك العلماء عن المدقق صاحب المسلم القیاس علی تقدیر کونہ فعلا من الفقہ اما ان کان عبارۃ عن المساواۃ المعتبرۃ شرعا فحجیتہ ضروریۃ دینیۃ کما سیصرح فی السنۃ ان حجیتھا ضروریۃ دینیہ[1]۔ |
اپنے والد گرامی ملك العلماء سے انہوں نے مدقق صاحب المسلم سے نقل کیا کہ قیاس اس تقدیر پر کہ وہ فقہی فعل ہے تو یا وہ شرعًامساوات معتبرہ سے عبارت ہوگا تو اس کا حجت ہونا ضرورت دینی ہے جیسا کہ سنت کے بارے میں عنقریب تصریح آرہی ہے کہ اس کا حجت ہونا ضروریات دین میں سے ہے(ت) |
بالجملہ حکم فقہ بلکہ بحکم حدیث بھی طائفہ غیر مقلدین پر بوجوہِ کثیرہ حکمِ کفر ہے،جسے زیادہ تفصیل پر اطلاع منظور ہوہمارے رسائل مذکورہ کی طرف رجوع کرے واﷲ الہادی۔
جواب سوال دوم:بلاشبہہ رافضی تبرائی بحکم فقہائے کرام مطلقًا کافر مرتد ہے،اس مسئلہ کی تحقیق وتفصیل کو ہمارا رسالہ"ردالرفضۃ"بحمد اﷲ کافی ووافی،یہاں دو چار سندوں پر اقتصار،درمختار مطبع ہاشمی ص۳۱۹:
|
کل مسلم ارتد فتوبتہ مقبولۃ الاالکافر بسب نبی اوالشیخین اواحدھما[2]۔ |
ہر وہ مسلمان جو مرتد ہوگیا اس کی توبہ قبول ہے مگر وہ کافر جس نے کسی نبی یا ابوبکر وعمر یا ان میں سے کسی ایك کوگالی دی(ت) |
درمختار میں ہے:
|
من سب الشیخین اوطعن فیھما کفر ولاتقبل توبتہ[3]۔ |
جس نے حضرت ابوبکر وعمر(رضی اﷲعنہما)کو گالی دی یا ان پر طعن تو وہ کافر ہے اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی(ت) |
فتح القدیر شرح ہدایہ مطبع مصر جلد اول ص۱۳۵:
|
فی الروافض من فضل علیا علی الثلٰثۃ |
رافضیوں میں سے جس نے حضرت علی کو باقی تین |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع