30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ابن حجرفی قولہ لیس لہ نیۃ فقال فی الکفر نظر فضلا عن کونہ متفقا علیہ لان النیۃ القصد،وقد ذکر النووی عفااﷲ تعالٰی عنہ فی شرح المھذب انہ یقال قصداﷲ کذابمعنی اراد فمن قال لیس لہ نیۃ ای قصد فان ارادانہ لیس قصد کقصد نا فواضح،وکذا ان اطلق اوارادانہ لاارادۃ لہ اصلا فان اراد المعنی الذی تقولہ المعتزلۃ فلاکفر ایضا، اوارادسلبھا مطلقا لابالمعنی الذی یقولونہ فھو کفر[1] اھ اقول: رحم اﷲ الشیخ لیس لہ نیۃ لیس من الفاظ الکفر بل ھو عطف علی قولہ عنی بہ المکان ای یکفران اراد المکان،اواطلق ولم ینوشیئا قال فی البحرالرائق ان قال اﷲ فی السماء فان قصد حکایۃ ماجاء فی ظاھر الاخبار لایکفروان اراد المکان کفر وان لم یکن لہ نیۃ کفر عند الاکثر وھوالاصح وعلیہ الفتوی [2]اھ۔ |
"لیس لہ نیۃ"کی صورت میں اختلاف کیا اور کہا کہ اس صورت میں کفر میں اختلاف ہے چہ جائیکہ کفر بالاتفاق ہو کیونکہ نیت قصد کا نام ہے۔امام نووی نے شرح المہذب میں کہا کہ جو کہا جاتا ہے قصد اﷲ کذا یعنی اﷲتعالٰی نے ارادہ فرمایا کے معنٰی میں ہوتا ہے اور جس نے کہا"اﷲ کے لئے نیت نہیں"یعنی قصد نہیں،اگر اس کی مراد یہ ہے کہ اسی طرح اگریہ کلمہ مطلقًا ذکر کیا یا یہ مراد لیا کہ اﷲتعالٰی کے لئے کوئی ارادہ نہیں،اب اگر وہ معنٰی مراد لیا جو معتزلہ کہتے ہیں تو وہ بھی کفر نہیں یا مراد یہ ہے کہ مطلقًا ارادہ کی نفی ہے نہ کہ وہ معنٰی جو معتزلہ کا قول،تو پھر کفر ہے اھ اقول اﷲ تعالٰی شیخ پر رحم فرمائے"اس کی نیت نہیں"یہ الفاظ کفر میں سے نہیں بلکہ اس کا عطف"اس نے مکان مراد لیا"پر ہے یعنی وہ کافر ہوجائے گا جب اس نے مکان مراد لیا یا اس نے کلمہ بولا اور اس سے کوئی ارادہ نہ کیا،بحرالرائق میں ہے کہ اگرکسی نے کہا"اﷲ آسمان میں ہے"اگر تو اس نے وہ مراد لیا جو ظاہرًا اخبار میں ہے تو پھر کافر نہیں،اور اگر اس نے مکان مراد لیا تو کفر ہوگا اور اگر اس نے کوئی ارادہ نہ کیا تو اکثر کے نزدیك وہ کافر ہے اور یہی اصح ہے اور اسی پر فتوٰی ہے۔(ت) |
نیز اسی کے فصل کفر متفق علیہ میں ہے ص۳۹:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع