30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
منسوخ فرمادیا اور حضور جو چاہتے تھے قیامت تك کے لئے وہ ہی قبلہ مقرر فر مادیا،یہ اﷲ عزوجل کی طرف سے رضاجوئی محمدی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم ہے ان میں سے جس کا انکار ہو قرآن عظیم کا انکار ہے۔ام المومنین صدیقہ رضی اﷲعنھا حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کرتی ہیں:
|
مااری ربك الّا یسارع فی ھواک[1]۔رواہ البخاری۔ |
میں حضور کے رب کو دیکھتی ہوں کہ حضور کی خواہش میں شتابی فرماتا ہے،اسے بخاری نے روایت کیا۔ |
یہ ہے وہ کلمہ کہ بعض ازواج مطہرات نے عرض کیا اور عرض کیا اور حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے انکار نہ فرمایا تو قائل کا کہنا کہ ایسے خصائص دیکھ کر شایدبعض ازواج مطہرات یہ کہنے لگی تھیں دراصل بات یہ ہے الخ یہ بتارہا ہے کہ ان بعض ازواج مطہرات نے خلافِ اصل بات کہی اور حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے مقرر رکھی،حدیث روز محشر میں ہے رب عزوجل اولین وآخرین کو جمع کرکے حضور اقدس صلی تعالٰی علیہ وسلم سے فرمائے گا:
|
کلھم یطلبون رضائی وانااطلبك رضاك یامحمد[2]۔ |
یہ سب میری رضاچاہتے ہیں اور اے محبوب!میں تمہاری رضا چاہتا ہوں۔ |
؎ خداکی رضاچاہتے ہیں دو عالم
خداچاہتا ہے رضائے محمد
بالجملہ کلمہ بہت سخت و شنیع تھااور بعد تاویل بھی شناعت سے بری نہ ہوا،تو بہ لازم ہے،واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۴۴تا۴۵:ازمقام چتوڑگڑھ علاقہ اودریپور راجپوتانہ مسئولہ عبدالکریم صاحب بروز شنبہ ۱۶ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ
(۱)جو شخص انگریزی ٹوپی وکوٹ پتلون محض ان کی موافقت کی وجہ سے پہنے تو وہ کافر ہے یا نہیں،غایۃ الاوطار ترجمہ درمختار باب مرتد میں لکھا ہے کہ جوشخص بلا ضرورت سردی وگرمی کے مجوسی کی ٹوپی پہنے وہ کافر ہے،اسی طرح جو شخص زنا رباندھے وہ بھی کافر ہے،مگر بضرورت اب اگر انگریزی ٹوپی وکوٹ پتلون بلاضرورت پہننے والاکافر نہیں ہے تو زنارباندھنے والے کو غایۃ الاوطار ترجمہ درمختار باب المرتد میں کافر کیوں کہا؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع