دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 14 | فتاوی رضویہ جلد ۱۴

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۴

(۲)بلاشبہہ لوحِ محفوظ میں ہرصغیر وکبیر مستطر ہے جو اسم بحیثیت علم،دنیا میں کسی کے لئے ہے لوح محفوظ میں وہی بحیثیت علم مکتوب ہے خواہ ماں باپ کا رکھا ہے یا اپنا یا اور کا اور جس میں تغیر واقع ہوا مغیر اور مغیر الیہ دونوں اپنے اپنے زمانہ کی قید سے مکتوب ہیں،حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے بہت صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے نام تبدیل فرمائے کہ اگلے نام متروك ہوگئے اور وہ انہیں دوسرے ناموں سے مشہور ہیں تو عنداﷲ بھی اب یہی ان کے نام ہیں اور انہیں ناموں سے روزِ قیامت پکارے جائیں گے،اور جو شخص اپنا نام بدل کرکچھ رکھے اور بحیثیت علم معروف نہ ہوتو اﷲ عزوجل کے یہاں بھی وہ نام علم ہو کر لکھا نہ گیا،ہاں یہ واقعہ ضرور مکتوب ہے ظاہر ا یہی مراد قائل ہے،قائل نے یہ نہ کہا کہ اﷲ تعالٰی کے یہاں یہ نہیں لکھا ہے بلکہ یہ کہا کہ اس کا نام یہ نہیں لکھا ہے تو کتابت نہیں بلکہ سببِ کتابت علمیت ہے،اور یہ صحیح ہے کہ جب کہ اس وضع کئے ہوئے نام نے حیثیت علمیت پیدا نہ کی،ہاں ایسی جگہ کلام بہت ہوشیاری سے چاہئے جس میں کوئی پہلوئے ناقص نہ نکلے،سوال میں اسم جلالت کے لفظ"میاں"مکتوب ہے یہ ممنوع و معیوب ہے،زبان اردو میں"میاں"کے تین معنٰی ہیں جن میں دو اس پر محال ہیں اور شرع سے ورود نہیں لہذا اس کا اطلاق محمود نہیں۔

(۳)قائل کا کہنا کہ جب ہی توبعض جہلا الخ بہت سخت قبیح وشنیع واقع ہوا اور جو معنی اس نے بعد کو قرار دئیے اس میں بھی وہ حقیقت کو نہ پہنچا بلاشبہہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تابع مرضی الٰہی ہیں اور بلاشبہہ کوئی بات اس کے خلاف حکم نہیں فرماتے اور بلاشبہہ اﷲ عزوجل حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی رضاچاہتا ہے۔

" وَ لَسَوْفَ یُعْطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی ؕ﴿۵"[1]،" قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَآءِۚ فَلَنُوَ لِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضٰىہَا۪ فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِؕ"[2]۔

اور بیشك قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم راضی ہوجاؤ گے۔ہم دیکھ رہے ہیں،بار بار تمہارا آسمان کی طرف منہ کرنا تو ضرور ہم تمہیں پھیر دیں گے اس قبلہ کی طرف جس میں تمہاری خوشی پس ابھی اپنا منہ پھیر دو مسجد حرام کی طرف۔(ت)

حکم الٰہی بیت المقدس کی طرف استقبال کا تھا حضور تابع فرمان تھے یہ حضور کی طرف سے رضاجوئی الٰہی تھی مگر قلب اقدس کعبہ کی طرف استقبال چاہتا تھا،مولٰی عزوجل نے مرضی مبارك کے لئے اپنا وہ حکم


 

 



[1] القرآن الکریم ۹۳/ ۵

[2]  القرآن الکریم ۲/ ۱۴۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن