30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیا،جس کی ایك واہی تباہی روایت چھپواکر تقسیم کی،اس کی بابت اك صاحب نے کہا کہ یہ نام انہوں نے کہاں سے رکھا،کچھ اﷲ میاں کے یہاں تو آپ کا یہ نام لکھا ہوا ہے نہیں جس پر کہا گیا کہ لوح محفوظ میں تو سب لکھا ہوا ہے یہ بھی لکھا ہوا ہے،اس پر ان صاحب نے کہا کہ میں نے اس بنا پر کہا تھا کہ لوگ کہتے ہیں کہ نام ماں باپ رکھتے ہیں وہ نام اﷲ میاں کے یہاں لکھا جاتا ہے،ظاہرًا اس قائل کا مطلب یہ تھا کہ نام کرکے وہی نام لکھا جاتا ہے جو ماں باپ کا رکھا ہے اور جو خود گھڑلے وہ بطور ایك امر واقع کے لکھا ہوتا ہے کہ فلاں اپنا یہ نام رکھے گا نام کرکے نہیں کہ فلاں کا یہ نام ہے،الغرض اس کا وہ مقولہ کیسا ہے اور اس کی کیا اصل ہے کہ نام وہی ہوتا ہے جو ماں باپ کارکھا ہے یاخود رکھا ہوا۔
(۳)ایك سنی صاحب کے سامنے میں نے کہا کہ حضور سرور عالم صلی تعالٰی علیہ وسلم کے بہت خصائص ہیں،وہ احکام شرعیہ جو عام نہیں ان سے حضور نے بعض صحابہ کو مستثنٰی کیا تھا ان پر ان صاحب نے کہاکہ جبھی تو بعض جہلاکہنے لگے تھے کہ اﷲ عزوجل رضاجوئے محمدی ہے،اس پر میں نے کہا کہ بعض جہلا کی کیا تخصیص ہے،اﷲ عزوجل تو رضا جوئے محمدی ہے انھوں نے بھی اس کا صاف اقرار کیا اور کہا کہ ایسے خصائص دیکھ کر شاید بعض ازواج مطہرات رضوان اﷲ علیہن بھی یہ کہنے لگی تھیں،مگر اصل بات یہ ہے کہ حضور اﷲ عزوجل کے فرمودہ سے باہر قدم ہی نہیں رکھتے تھے وہی فرماتے تھے جو اﷲ عزوجل کا حکم تھا تو اصل میں حضور متبع حکمِ الٰہی اور رضاجوئے الٰہی بھی ہوئے،ان کی اس وقت کی طرز تقریر وحالت سے ان کا مطلب یہ معلوم ہوتا تھا کہ جہلا تو یہ سمجھ کر اﷲ عزوجل کو رضاجوئے محمدی کہنے لگے تھے کہ حضور ایك حکم دیتے ہیں اور پھر اﷲ عزوجل بھی ویسی ہی وحی نازل فرمادیتا ہے یعنی اﷲ عزوجل حضور کا اتباع فرماتا ہے حالانکہ اصل میں حکم الٰہی وہی ہوتا ہے اور اسکے اتباع سے حضور حکم دیتے ہیں،غرض اس کا یہ مقولہ کہ جبھی تو بعض جہلا بھی الخ کا کیا حکم ہے اس کلی مقولہ کا کیا جو اس کے بعد کہا گیا۔
الجواب:
(۱)مولاعزوجل فرماتا ہے:انا عندظن عبدی بی[1] (میں اپنے بندے کے گمان کے پاس ہوں۔ت)روافض ومعتزلہ کہ رؤیت الٰہی سے مایوس ہیں مایوس ہی رہیں گے،وہابیہ شفاعت سے منکر ہیں محروم ہی رہیں گے تو ان کا انکار ان کے اعتبار سے صحیح ہوا ظاہرا قائل کی یہی مراد ہے کہ ان کی نفی ان کے حق میں سچی ہے،اس میں کوئی حرج نہیں، ہاں جو اس کے قول کی تصدیق بمعنی نفی مطلق کرے وہ ضرور گمراہ وخارج از اہلسنت ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع