30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بینوا بسند الکتاب تؤجروا عند اﷲ یوم الحساب، فقط۔ |
شرعًاکافر نہیں توجو اسے کافر کہے اس کا کیا حکم ہے؟کتاب وسنت کے حوالے سے بیان کیجئے اور یوم قیامت اﷲ تعالٰی سے اجر پائیے،فقط(ت) |
الجواب:
|
کسے کہ بازن سہ طلاقہ خود بے تحلیل طرح معاشرت انداخت ونزد شوئی باخت بجائے خود بزہ کار است وباچنیں گناہگاراں معاملہ پیشوایان دین مختلف بودہ است ہم بہ نرمی کار کردہ اند دہم بہ در شتی چنانکہ در احیاء العلوم رنگ تفصیل دادہ اند مولویان کہ بخانہ او ختم خواند وچیزے خوردند گناہے نکردند کسے کہ آناں رابدانسان والفاظ بدیاد کرد چیزے شنیع آورد باز حکم خاص بر آناں نہ نمود بلکہ عام مولویان ایں زمان گفت شناعتش از حد گزشت تکفیر او نشاید اما تجدید اسلام ونکاح سزد کہ باید و آنکہ تکفیر او کردہ است نیز کار ازحد بردہ است اورانیز توبہ باید۔واﷲتعالٰی اعلم۔ |
جس شخص نے اپنی عورت کو طلاقیں دے دیں اور اس کے بعد بغیر حلال ہونے کے اس کے ساتھ مباشرت کرنازنا اور بدکرداری ہے،ایسے گنہگار لوگوں کے ساتھ علمائے دین کا معاملہ مختلف ہوتا ہے کبھی ان پر نرمی کرنا پڑتی ہے اور کبھی سختی،اس کی تفصیل احیاء العلوم میں دیکھئے،مولویوں نے جو اس کے گھر ختم پڑھا اور کوئی چیز کھائی تو اس سے وہ گناہگار نہیں ہوئے جو شخص انہیں بدالفاظ سے یاد کرتا ہے وہ برا کرتاہے پھر ان پر حکم خاص نہیں رکھا بلکہ عام مولویوں کی بات کرتا ہے تو اگرچہ یہ بات نہایت بری ہے لیکن اس پر تکفیر کا حکم جاری نہیں ہوسکتا،رہا تجدید اسلام اور نکاح کا معاملہ تو یہ مناسب ہے اور جس نے اس کی تکفیر کی ہے وہ بھی حد سے بڑھ گیا اس کو بھی توبہ کرنی چاہئے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ۴۰: از شہر سورت محلہ سید واڑہ مسئولہ سیدصدرالدین زری والے صفر المظفر ۱۳۳۴ھ چہارشنبہ
عالی خدمت عالی جناب مولانا مولوی حضرت احمد رضاخاں صاحب دام ظلکم بعد ادائے آداب تسلیمات کے گزارش ہے کہ در شہر سورت خیریت آنجناب کی شب و روز درگاہ رب العزت سے نیك مطلوب ہوں،دیگر گزارش یہ کہ قبل از اس کے ایك گزارش نامہ در طلب ردوہابیہ ارسال خدمت کیا تھا،ہنوز انتظار دست یاب نسخہ مذکور ہوں،اس اثناء میں ایك اور سوال بے ثبات فرقہ مذکورسے ایجاد ہوا وہ یہ کہ رسالتمآب کے والد ماجد حالتِ کفر میں تھے اور اسی حالت میں رحلت بھی فرمایا اس کے رد میں اہل تسنّن نے یہ جواب دیا کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع