30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
منزہ اور مبرا ہے،مگر بندہ ناچیز کو اپنے مولا کی تعمیل حکم کرنا چاہئے،بکر کہتاہے کہ زیدکا دماغ خشك ہو گیا اس لئے کہتاہے،یہ سب غلط ہے بلکہ جو کچھ ہم کرتے ہیں وُہ سب اپنی ذات کےلئے کرتے ہیں اور کرنا چاہئے ایسی صورت میں زید و بکر کے قول کی بابت کیا حکم ہے؟
الجواب:
زید و بکر اپنی اپنی مراد پر دونوں سچے ہیں،بیشك نماز،روزہ،حج،زکوٰۃ سب اﷲ عز وجل ہی کےلئے ہیں یعنی ان سے اسی کی عبادت و نجابت تعظیم مقصود ہے۔
|
" اِنَّ صَلَاتِیۡ وَنُسُکِیۡ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیۡ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۶۲﴾ۙ"۔[1] |
بیشك میر ی نماز اور قربانی اور جینا اور مرنا سب اﷲ کےلئے ہے جو مالك ہے سارے جہان کا اس کا کوئی شریك نہیں۔ |
اور بیشك تمام عبادات و اعمال حسن اپنے ہی لئے ہیں یعنی اپنے فائدے کو ہیں" مَنْ عَمِلَ صٰلِحًا فَلِنَفْسِہٖ ۚ"[2](جو نیك کام کرے وہ اپنے لئے کرتا ہے۔ دونوں قول قرآن عظیم میں موجود ہیں،ہاں بکر کا یہ کہنا کہ زید کا دماغ خشك ہو گیا ہے،مفت ایذائے مسلم ہے اس سے معافی چاہے اور اس کا کہناکہ یہ سب غلط ہے بہت سخت کلمہ ہے اسے تجدید اسلام چاہئے کہ اس نے ایسے واضح دینی، قرآنی قول کی تغلیط کی واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ایضًا زید اپنے آپ کو گنہگار،خطا وارجانتاہے مگر بروقت گفتگو زید یہ کہتا ہے کہ میں مسلمان مومن سچا ہُوں،اور بکر بھی اپنے آپ کو گنہگار خیال کرتا ہے مگر بروقت بکر یہ کہتا ہے کہ میں ہر گز مسلمان نہیں ہوں،چنانچہ زیدکو اپنی بابت سچا مومن کہنا اور بکر کو مسلمان ہونے سے انکار کرنا کیسا ہے،دونوں کی نسبت کیا حکم ہے؟
الجواب:
زید کے قول میں حرج نہیں،ہاں اسے حمدِ الٰہی بڑھا لینا چاہئے تھا،الحمدﷲ میں مسلمان ہوں،بکر کا قول بہت قبیح ہے،ائمہ نے فرمایا ہے جو اپنے مسلمان ہونے سے انکار کر ے وہ مسلمان نہیں اسے توبہ اور تجدید اسلام پھر تجدید نکاح چاہئے،واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۷: از شہر کہنہ مسئولہ سید نور صاحب محرر دارالافتاء ۹ ذی الحجہ ۱۳۳۳ھ
(۱)زید بے علم ہے مگر ہر عالم درویش پرازرُوے اہانت اعتراض کرتاہے اور عیب جوئی میں ساعی رہتا ہے،پس اہانت علماء وغیرہ شرعًا کیسا فعل ہے؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع