30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فتوٰی(۴):مسئلہ ہفتم درقرآن مجید جمع کردہ عثمان تحریف و نقصان واقع شدہ یا نہ؟ جواب:تحریف جامع القرآن بلکہ محرق و محرف قرآن درنظم قرآن یعنی ترتیب آیات از کلام مفسرین فریقین و عنوان نطم قرآن مستغنی عن البیان وہمچنیں نقصان بعضی آیات واردہ درفضیلت اہلبیت علیہم السلام مد لول قرائن بسیار و آثارات بیشمار۔(سید علی محمد ۱۲۶۳) |
فتوٰی(۴):ساتواں مسئلہ،عثمان کے جمع کردہ قرآن مجید میں تحریف اور کمی واقع ہوئی ہے یا نہیں؟ جواب:قرآن کے جامع بلکہ جلانے والے اور تحریف کرنے والے کی تحریف نظم قرآن یعنی ترتیب آیات میں فریقین کے مفسرین کے کلا م اور نظم قرآن کے عنوان سے واضح ہے،اور یونہی اہلبیت علیہم السلام کی فضیلت میں وارد بعض آیات میں کمی بہت سے قرائن اور بے شمار آثار سے ثابت ہے۔ (سید علی محمد ۱۲۶۳) |
روافض علی العموم اپنے مجتہدوں کے پیرو کار ہوتے ہیں،اگر بفرض غلط کوئی جاہل رافضی ان کُھلے کفروں سے خالی الذہن بھی ہو تو فتوائے مجتہدان کے قبول سے اُسے چارہ نہیں اور بفرض باطل یہ بھی مان لیجئےکہ کوئی رافضی ایسا نکلے جو اپنے مجہتدین کے فتوٰی بھی نہ مانے تو الاقل اتنا یقینا ہو گا کہ ان کفروں کی وجہ سے اپنے مجتہدوں کو کافر نہ کہے گا،بلکہ اُنھیں اپنے دین کا عالم و پیشوا و مجتہد ہی جانے گا اور جو کسی کافر منکر ضروریات دین کو کافر نہ مانے خود کافر مرتد ہے۔فا ء شریف ص ۳۶۲ میں انھیں اجماعی کفر کے بیان میں ہے:
|
ولھذا نکفر من لم یکفر من دان بغیر ملۃ المسلمین من الملل او وقف فیھم اوشك اوصحح مذھبھم وان اظھر مع ذلك الاسلام واعتقدہ و اعتقد ابطال کل مذھب سوا ہ فھو کافر باظھا رہ بھا ظھر من خلاف ذلک۔[1] |
ہم اسی واسطے کافر کہتے ہیں ہر اس شخص کو جو کافروں کو کافر نہ کہے یا ان کی تکفیر میں توقف کرے یا شك رکھے یا اُن کے مذہب کی تصحیح کرے اگر چہ اس کے ساتھ اپنے آپ کو مسلمان جتاتا اورا سلام کی حقانیت اور اس کے سواہر مذہب کے باطل ہونے کا اعتقاد رکھتا ہو کہ وہ اُس کے خلاف اُس اظہار سے کہ کافرکو کافر نہ کہا خود کافر ہے۔ |
اُسی کے صفحہ ۳۲۱اور فتاوٰ ی بزازیہ جلد ۲ صفحہ ۳۲۲ اور درر وغر رمطبع مصر جلد اول صفحہ ۳۰۰ اور فتاوٰی خیر یہ جلد اول صفحہ ۹۴،۹۵ اور درمختار صفحہ ۳۱۹اور مجمع الانہر جلد اول صفحہ ۶۱۸ میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع