30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترکہ بھی ہر گز اسے نہیں پہنچ سکتا۔عالمگیری جلد ۶ ص ۴۵۵ میں ہے:
|
المرتد لایرث من مسلم ولا من مرتد مثلہ کذ افی المحیط۔[1] |
مرتد نہ کسی مسلمان اور نہ ہی اپنے جیسے مرتد کا وارث ہو گا،ایسے ہی محیط میں ہے۔(ت) |
خزانہ المفتین میں ہے:
|
المرتد لایرث من احد لامن المسلم ولا من الذمی ولا من مرتد مثلہ۔[2] |
مرتد کسی کا بھی وارث نہ بنے گا نہ مسلمان نہ ذمی اور نہ ہی اپنے جیسے مرتد کا۔(ت) |
یہ حکم فقہی مطلق تبرائی رافضیوں کا ہے اگرچہ تبرا و انکار خلافت شیخین رضی اﷲ تعالٰی عنہما کے سوا ضروریات دین کا انکار نہ کرتے ہوں،
|
والاحوط فیہ قول المتکلمین انھم ضلال من کلاب النار لاکفار وبہ ناخذ۔ |
اس میں محتاط متکلمین کا قول ہے کہ وہ گمراہ اور جہنمی کُتے ہیں کافر نہیں،اور یہی ہمارا مسلك ہے(ت) |
اور روافضِ زمانہ تو ہر گز صرف تبرا ئی نہیں بلکہ یہ تبرائی علی العموم منکر ان ضروریات دین اور باجماع مسلمین یقینًا قطعًا کفار مرتدین ہیں یہاں تك کہ علمائے کرام نے تصریح فرمائی کہ جو انھیں کافر نہ جانے خود کافر ہے،بہت عقائد کفریہ کے علاوہ دو کفر صریح میں اُن کے عالم جاہل مرد عورت چھوٹے بڑے سب بالا تفاق گرفتار ہیں:
کفر اول:قرآن عظیم کو ناقص بتاتے ہیں،کوئی کہتا ہے اُس میں سے کچھ سُورتیں امیر المومنین عثمان غنی ذوالنورین یا دیگر صحابہ اہلسنت رضی اﷲ تعالٰی عنہم نے گھٹا دیں،کوئی کہتا ہے اُس میں سے کچھ لفظ بدل دئے،کوئی کہتا ہے یہ نقص و تبدیل اگرچہ یقینا ثابت نہیں محتمل ضرور ہے اور جو شخص قرآن مجید مین زیادت یا نقص یا تبدیل کسی طرح کے تصرفِ بشری کا دخل مانے یا اُسے محتمل جانے بالا جماع کافر مرتد ہے کہ صراحۃً قرآن عظیم کی تکذیب کر رہا ہے۔اﷲ عز وجل سورہ حجر میں فرماتاہے:
|
" اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ ﴿۹﴾ "۔[3] |
بیشك ہم نے اتارا یہ قرآن اور بیشك بالیقین ہم خوداس کے نگہبان ہیں۔ |
بیضاوی شریف مطبع لکھنؤ صفحہ ۴۲۸ میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع