30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اختلاف الدین ایضا یمنع الارث والمرادبہ الاختلاف بین الاسلام و الکفر۔[1] |
مورث ووارث میں دینی اختلاف بھی مانع میراث ہے،اور اس سے مراد اسلام و کفر کا اختلاف ہے۔ |
بلکہ رافضی خواہ وہابی خواہ کوئی کلمہ گو جو باوصف ادعائے اسلام عقیدہ کفر رکھے وہ تو بتصریح ائمہ دین سب کافروں سے بد تر کافر یعنی مرتد کے حکم میں ہے۔ہدایہ مطبع مصطفائی جلد اخیر صفحہ ۵۶۳ اور درمختار صفحہ ۶۶۸ اور عالمگیری جلد ۶ صفحہ ۱۴۲ میں ہے:
|
صاحب الھوی ان کان یکفر فھو بمنز لۃ المرتد۔[2] |
بد مذہب اگر عقیدہ کفریہ رکھتا ہو تو مرتد کی جگہ ہے۔ |
غررمتن درر طبع مصر جلد ۲ ص ۳۴۶ میں ہے:
|
ذوھوی ان اکفر فکالمر تد۔[3] |
بد مذہب اگر تکفیر کیاجائے تو مثل مرتد کے ہے۔ |
ملتقی الابحر اور اس کی شرح مجمع الانہر جلد ۲ صفحہ ۶۸۹ میں ہے:
|
ان حکم بکفرہ بما ارتکبہ من الھوی فکالمرتد۔[4] |
اگر اسی بد مذہبی کے سب اُس کے کفر کا حکم دیا جائے تو وُہ مرتد کی مثل ہے۔ |
نیز فتاوٰی ہندیہ جلد ۲ صفحہ ۱۲۶۴ اور طریقہ محمدیہ اور اس کی شرح حدیقہ ندیہ مطبع مصر جلد اول صفحہ ۲۰۷،۲۰۸ اور بر جندی شرح نقایہ جلد ۴ صفحہ ۲۰ میں ہے:
|
یجب اکفارالروافض فی قولھم برجعۃ الاموات الی الدنیا(الی قولہ)وھولاء القوم خارجون عن ملۃ الاسلام و احکامھم احکام المرتد ین کذا فی الظھیریۃ۔[5] |
یعنی رافضیوں کو اُن کے عقائد کفریہ کے باعث کافر کہنا واجب ہے،یہ لوگ دین اسلام سے خارج ہیں اُن کےاحکام بعینہ مرتدین کےاحکام ہیں،ایسا ہی فتاوٰی ظہیریہ میں ہے۔ |
اور مرتد اصلًا صالح وراثت نہیں،مسلمان تو مسلمان کسی کافر حتی کہ خود اپنے ہم مذہب مرتد کا
[1] تبیین الحقائق کتاب الفرائض المطبعۃ الکبری الامیریہ مصر ۶/ ۲۴۰
[2] فتاوی ہندیہ الباب الثامن فی وصیۃ الذمی والحربی نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۱۳۰
[3] غرر الاحکام مع الدررالحکام،کتاب الوصایا فصل وصایا الذمی احمد کامل الکا ئنۃ العلیہ مصر ۲/ ۴۴۶
[4] مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر کتاب الوصایا بوصیۃ الذمی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۷۱۷
[5] فتاوٰی ہندیہ باب المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۶۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع