30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کل مسلم ارتد فتو بتہ مقبولۃ الا الکافر بسب النبی او الشیخین او احدھما۔[1] |
ہر مرتد کی توبہ قبول ہے مگر وہ جو کسی نبی یا حضرات الشیخین یا ان میں ایك کی شان میں گستاخی سے کافر ہو۔ |
اشباہ والنظائر قلمی فن ثانی کتاب السیر اور فتاوٰی خیریہ مطبوعہ مصر جلد اول ص ۹۴،۹۵ اور اتحاف الابصار والبصائر مطبوعہ مصر ص ۱۸۶ میں ہے:
|
کافر تاب فتو بتہ مقبو لۃ فی الدنیا والاٰخرۃ الاجماعۃ الکافر بسب النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وسائر الا نبیاء وبسب الشیخین اوا حد ھما [2] |
جو کافر توبہ کرے اس کی توبہ دُنیا و آخرت میں قبول ہے مگر کچھ کافر ایسے ہیں جن کی توبہ مقبول نہیں ایك وُہ جو ہمارے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خواہ کسی نبی کی شان میں گستاخی کے سبب کافر ہوا،دوسرا وہ کہ ابو بکر و عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما دونوں یا ایك کو بُرا کہنے کے باعث کافر ہوا۔ |
درمختار میں ہے:
|
فی البحر عن الجو ھرۃ معزیا للشھید من سب الشیخین اوطعن فیھما کفر ولا تقبل توبتہ وبہ اخذ الدبوسی وا بو اللیث وھوا لمختار للفتوی انتھی وجزم بہ الاشباہ واقر ہ المصنف۔[3] |
یعنی بحرالرائق میں بحوالہ جوہر ہ نیرہ شرح مختصر قدوری امام صدر شہید سے منقول ہے جو شخص حضرات شیخین رضی اﷲ تعالٰی عنہما کو بُرا کہے یا اُن پر طعن کرے وہ کافر ہے اس کی توبہ قبول نہیں،اور اسی پر امام دبوسی اور امام فقیہ ابواللیث سمر قندی نے فتوٰی دیا،اور یہی قول فتوٰی کے لئے مختار ہے،اسی پر اشباہ میں جزم کیا،اور علامہ شیخ الاسلام محمد بن عبداﷲ غزی تمر تاشی نے اسے برقرار رکھا۔ |
اور پر ظاہر کہ کوئی کافر کسی مسلمان کا ترکہ نہیں پاسکتا۔درمختار صفحہ ۲۸۳ میں:
|
موانعہ الرق والقتل واختلاف الملتین اسلاما وکفرا ملتقطا۔[4] |
یعنی میراث کے مانع ہیں غلام ہونا اور مورث کو قتل کرنا اور مورث و وارث میں اسلام و کفر کا اختلاف۔ |
تبیین الحقائق جلد ۶ ص ۲۴۰ عالمگیر ی جلد ۶ ص ۴۵۴ میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع