30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اولًا فتح الباری میں یہ حدیث متعدد الفاظ وکثیر طرق سے حضرت ابوبرزہ اسلمی و حضرت امیرالمومنین مولٰی علی وحضرت انس بن مالك وحضرت ابوہریرہ وحضرت صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے بروایت یعقوب بن سفین وابویعلی وطبرانی وابوداؤد طیالسی وبزار وتاریخ امام بخاری و نسائی وامام احمد وحاکم ذکر کی،یہ لفظ کہ اس کی سند کے رجال ثقہ ہیں مگر اس میں انقطاع ہے صرف صدیق اکبر سے روایت احمدکی نسبت لکھے ہیں کہ مسند احمد میں صدیق سے اس کے راوی حضرت عبدالرحمٰن بن عوف احدالعشرۃ المبشرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے صاحبزادہ امام ثقہ تابعی جلیل حضرت حمید بن عبدالرحمٰن ہیں ان کے صدیق اکبر سے سماع نہیں۔فتح الباری کی عبارت ملخصًا یہ ہے احادیث ابوبرزہ ومولٰی علی وبعض طرق حدیث انس ذکر کرکے کہا:
|
واخرجہ النسائی والبخاری ایضا فی التاریخ وابو یعلی من طریق بکیر الجزری عن انس ولہ طرق متعددۃ عن انس،واخرج احمد ھذااللفظ من حدیث ابی ھریرۃ ومن حدیث ابی بکر الصدیق، و رجالہ رجال الصحیح لکن فی سندہ انقطاع، واخرجہ الطبرانی والحاکم من حدیث علی بھذا اللفط الاخیر[1]۔ |
یعنی نیز یہ حدیث امام نسائی اور امام بخاری نے تاریخ میں اور ابویعلی نے بروایت بکیر جزری حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی اور امام احمد نے یہی لفظ الائمۃ من قریش حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حدیث سے روایت کئے اور حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی حدیث سے اور اس کے رجال رجال صحیح ہیں مگر اس کی سند میں انقطاع ہے،اور یہ حدیث طبرانی وحاکم نے مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ سے روایت کی انہیں لفظوں سے کہ"الائمۃ من قریش"۔ |
مسٹر نے اول آخر سب اڑا کر مطلقًا اس حدیث ہی پر حکم لگا دیا کہ فتح الباری میں اس کی سند منقطع بتائی یہ کیسی خیانت ہے۔
ثانیًا فصل اول میں گزرا کہ انہیں صاحب فتح الباری امام ابن حجر نے اسی حدیث"الائمۃ من قریش"کے جمع طرق میں ایك مستقل رسالہ لکھا اور اسے چالیس کے قریب صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کی روایت سے دکھایا حدیثِ متواتر کو کہنا کہ بطریق اتصال ثابت ہی نہیں کیسا ظلم شدید و اغوائے جہال ہے اور پھر انہیں ابن حجر پر اس کے متن کے منقطع السندبتانے کی تہمت کیسی جرأت پروبال ہے۔
ثالثًا طرفہ یہ کہ خود ہی ص۵۶پر کہہ چکے تھے"احادیث اس بارے میں جس قدر موجود ہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع