30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الدین [1]۔ |
دین قائم رکھیں۔ |
اسے اگر خبر بتایا کہ یہ اقامت دین سے مقید ہے تو احادیث مطلقہ کا خبر ہوجانا کیوں لازم آیا وہ تشریع ہیں اور اپنے اطلاق پر یعنی شرعًا خلافت صرف قریش کےلئے ہے اور یہ خبر ہے اور مقید ہے یعنی وہ اپنے حق سے بہرہ مند رہیں گے جب تك دین قائم رکھیں،جب اسے چھوڑیں گے خلافت جاتی رہے گی۔
ثالثًا عجب ہے کہ ایك حدیث خاص میں دو چار شراح نے جو لکھا وہ تو ان کا دامن پکڑ کر سب احادیث کو بزور زبان عام کرلیا جائے اور خود ان باقی احادیث میں جو ان کی عام جماعتوں نے لکھا اورمذہب اہل سنت واجماع صحابہ بتایا وہ انہیں کے کلام سے رد کردیا جائے،اور کیا" یُحَرِّفُوۡنَ الْکَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِہٖ"[2]کے سر پرسینگ ہوتے ہیں،قرآن عظیم نے اسے خصلتِ یہود بتایا کہ بات کو اس کی جگہ سے پھیر دیتے ہیں۔
رابعًا جب جماعت ائمہ حدیث کی روشن و قاہر تصریحات حتی کہ اجماعِ صحابہ وعقیدہ اہل سنت مقبول نہ ہوتو ایك حدیث خاص میں ایك خاص وجہ سے ان کے دوچار کا کہنا کیوں حجت ہو،آپ تو مجتہدین سے بھی اونچے اڑتے ہیں،ان دوچار ٹھیٹ مقلدوں کا دامن نہ تھامئے،حدیث سے چلئے،حدیث میں"مااقاموا الدین"بعدجملہ"لایعادیھم احد الا اکبہ اﷲ"ہےاسی سے کیوں نہ متعلق ہو اس سے توڑ کر دور کے جملہ"ان ھذا الامر فی قریش"سے کیوں جوڑدیاجائے وہ اپنے اطلاق پر رہے اور یہ قید اسی جملہ میں ہو جس سے یہ متصل ہے تو معنی حدیث یہ ہیں کہ بیشك شرعی خلافت قریش میں منحصر ہے دوسرا شخص خلیفہ نہیں ہوسکتا اور قریش جب تك دین قائم رکھیں گے ان کا مخالف ذلیل و رسوا ہوگا اب اپنے اجتہاد کی خبریں کہئے۔
(۵۷ تا۶۰)حدیث جلیل"الائمۃ من قریش"پر ایك ہاتھ من حیث السند بھی صاف کیا،ص۶۴"یہ الفاظ اور حضرت ابوبکر والی روایت بطریق اتصال ثابت ہی نہیں،فتح الباری میں ہے:
|
الائمۃ من القریش عــــہ رجالہ رجال الصحیح ولکن فی سندہ انقطاع[3]۔ |
حدیث"الائمۃ من قریش"کے تمام راوی صحیح حدیث کے راوی ہیں لیکن اس کی سند میں انقطاع ہے(ت) |
عــــہ:نہ فتح الباری میں"من القریش"ہے نہ حدیث میں،پہلے بھی آپ نے اپنے کلام میں حدیث ان لفظوں سے لکھ کر رسول اﷲ صلی ا ﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف نسبت کی تھی مگر امام ابن حجر پر تو اس افترا علی المصطفی کی تہمت نہ رکھئے۱۲منہ غفرلہ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع