30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پھر فرمایا:
|
لما لم یکن شیئ منھا علٰی شرط المصنف اقتصر علی الترجمۃ واوردالذی صح علی شرط۔[1] |
یہ روایتیں شروط بخاری پر نہ تھیں لہذا ان الفاظ کو ترجمہ میں لانے پر اقتصار کیا اور ان کے مؤید وہ حدیثیں لائے جو ان کی شرط پر تھیں |
(۵۲)ص ۶۱"ایك اور حدیث ہے کہ ضرور ہے کہ بارہ خلیفہ ہوں سب قریش سے ہوں گے اس طرزبیان نے ظاہر کردیا کہ اس بارے میں جو کچھ کہا ہے اس سے صرف آیندہ کی اطلاع مقصود ہے حکم وتشریع نہیں۔"بارہ خلافتوں کی پیشگوئی اگر خبر ہے تو دنیا بھر کی حدیثیں سب خبرہیں اس زبردستی ودیدہ دلیری کی کوئی حد ہے یعنی شارع سے جب کسی امر کے بارے میں کچھ پیشگوئی فرمائے تو اس میں جتنی حدیثیں ہیں سب حکم شرعی سے خالی ہوجاتی ہیں اور سب کو بزور زبان اگرچہ اپنی طرف سے پچریں لگا کر خبر پر ڈھال دینا واجب ہوجاتا ہے ارشاد اقدس:
|
قدمواقریشا ولاتقدموھا[2]۔ |
قریش کو مقدم رکھو اور ان پر تقدم نہ کرو۔ |
یہ بھی امرونہی نہیں خبر ہوگا کیونکہ ان کی"صرف دانی"میں"قدموا"صیغہ مضارع ہے اور"لاتقدموا"صیغہ ماضی،بات وہی کہ یتشبث بکل حشیش۔
(۵۳تا۵۴)ص۶۲"ائمہ حدیث نے حدیث قحطانی وحدیث قریش میں تطبیق دیتے ہوئے صاف صاف لکھ دیا کہ امارت قریش والی روایت تشریع نہیں محض خبر ہے"
اولا یہ عیاری و چالاکی ملاحظہ ہو امارت قریش والی روایت میں کہا جس سے حدیث الامراء من قریش و حدیث الائمۃ من قریش و حدیث لایزال ھذاالامر فی قریش کی طرف ذہن جائے حالانکہ ائمہ حدیث نے ہر گز نہ کہا کہ ان سے تشریع ثابت نہیں نری خبر ہیں زیرنمبر ۴۲کتب کثیرہ کے نام گنا چکا ہوں ان کی عبارتیں فصل اول میں دیکھئے اور اس کذب صریح سے توبہ کیجئے،ائمہ حدیث کی اگرمانتے ہو تو ان کی ان روشن تصریحوں سے کیوں منکر ہو۔
ثانیًا ائمہ نے حدیث قحطانی سے جس حدیث کی تطبیق دی وہ یہ ہے:
|
ان ھذا الامرفی قریش لایعادیھم احد الااکبہ اﷲ علی وجہہ مااقاموا |
بیشك یہ امر قریش میں ہے جو ان سے عداوت کرے گا اﷲ اسے اوندھے منہ گرائے گاجب تك قریش |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع