30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حدیث کا یہی مفاد امام قسطلانی نے خود شرح روایت بخاری میں لکھا،امام عینی وامام ابن حجر نے شروح بخاری میں اس حدیث کی شرح میں امام قرطبی کا قول نقل کیا اور مقرر رکھا کہ:
|
ای لا تنعقد الامامۃ الکبری الاالقرشی مھما وجد احدمنھم[1]۔ |
یعنی مراد حدیث یہ ہے کہ جب تك ایك قریشی بھی دنیا میں رہے دوسرے کے لئے امامتِ کبرٰی ہو ہی نہیں سکتی۔ |
دیکھو اس روایت بخاری سے بھی ائمہ نے وہی مطلب سمجھا جو روایت مسلم میں تھا۔
ثانیًا اگر تفسیر نہ مانو تعارض جانو تو متعدد کی روایت کیوں نہ ارجح ہو اور نہ سہی معارض تو ہوگی تو تمہاری سند کہ"منھم"ہے ثابت نہ رہے گی۔
ثالثًا کسی پر چہ اخبار کی ایڈیٹری اور چیز ہے اور حدیث وفقہ کا سمجھنا اور،وہ"من"کا ترجمہ"سے"اور"الٰی"کا ترجمہ"تک"سے نہیں آتا اگر ضمیر قریش کی طر ف ہوتی تو"اثنان"کی جگہ"احد"فرمایا جاتا یعنی جب تك ایك قریشی بھی رہے جس طرح ابھی امام قرطبی وامام عینی وامام عسقلانی کے لفظ سن چکے اس کی تاویل آپ حسبِ عادت کہ قرآن کریم میں اپنی طرف سے اضافے کرلیتے ہیں حدیث میں یہ پچربڑھاتے کہ یعنی جب تك کہ ایك قریش خلافت کا اہل رہے دو کی اہلیت پر موقوف فرمانا کیا معنی،کیا خلیفہ ایك وقت میں دو بھی ہوسکتے ہیں؟ ہرگز نہیں،ہاں آدمیوں کی طرف ضمیر ہوتو ضرور دو کی ضرورت تھی کہ خلافت حکومت ہے اور حکومت کو کم سے کم دو درکار،ایك حاکم ایك محکوم،اب تو آپ نے جانا کہ"منھم"کی ضمیر قریش کی طرف پھیرنا کیسی سخت جہالت تھا۔
رابعًا جانے دو آخر اس قدر کے تو منکر نہیں ہوسکتے کہ صحیح مسلم میں لفظ حدیث"مابقی من الناس اثنان[2]"ہیں اب کہاں گئی وہ آپ کی بالاخوانی کہ کسی طریق سے بھی کوئی ایسا لفظ مروی نہیں،اب دیکھیں اسے کیسے پیشگوئی بناتے ہو،حدیث کا ارشاد تو یہ ہے کہ"جب تك دنیا میں دو آدمی بھی ہوں خلافت قریش کے لئے ہے"اسے خبر بمعنی مزعوم مسٹر وہی ٹھہرائے گا جو اﷲ ورسول کو جھٹلائے گا،اور اگر اپنی پچر لیجے تو معنے یہ ہوں گے کہ جب تك دنیا میں دو آدمی بھی حکمرانی کے اہل رہیں گے خلافت قریش ہی کے قبضے میں رہے گی اب کیوں نہیں اور بھی زیادہ اچھل کر کہتے کہ یہ واقعات کے بالکل خلاف ہے خلافت صدہا سال سے قریش کے قبضے سے نکل گئی اور ہرگز کوئی وقت ایسا نہ ہوا کہ دنیا میں دو بھی حکمرانی کے اہل نہ ہوں۔کیا مسٹر اپنی تاریخ دانی تیز زبانی یہاں دکھا کر ثبوت دیں گے کہ اٹھارہ کم سات سو برس یا بلحاظ خلافت مصری گیارہ کم چار سو برس سے دنیا مں وہ شخص بھی قابل حکمرانی نہ رہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع