30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عادۃًاو شرعا[1]۔ |
واقع نہ ہو۔ |
خصوصًا حدیث کو پیشگوئی مان کر،تو اس کے خلاف کا ادعا جہل صریح بلکہ ضلال عــــہ قبیح ہے۔
|
عــــہ:قال الحافظ قلت والذی حمل قائل ھذاالقول علی انہ فہم منہ(ای من قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لایزال ھذا الامر فی قریش)الخبرالمحض وخبر الصادق لایتخلف،واما من حملہ علی الامر فلایحتاج الی ھذاالتاویل [2]اھ وکتبت علیہ اقول بلٰی یحتاج الیہ فانہ لو صح شرعًا وعادۃً ان تکون القریش فی شیئ من الازمنۃ ساقطین عن اہلیۃ الخلافۃ کما زعمہ بعض مبطلی زماننا وقد امر صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان لاتجعل الخلافۃ ابداالافی قریش فیکون ذلك فی ذلك الزمان امرا باستخلاف غیر الاھل وھو محال ثم لاادری ای تاویل فیہ وای صرف عن الظاھر انما ھواستنباط امریفیدہ منطوق الحدیث فافھم۱۲منہ۔ |
حافظ ابن حجر نے فرمایا:میں کہتا ہوں اس قول کے قائل کو جس چیز نے اس پر آمادہ کیا وہ یہ کہ اس نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشاد"یہ خلافت ہمیشہ قریش میں ہوگی"کو خالص خبر سمجھا اور سچے نبی کی خبر خلاف واقع نہیں ہوتی لیکن جس نے اس حدیث کو امر(حکم)قرار دیا وہ اس تاویل کا محتاج نہیں ہے اھ،میں نے اس پر حاشیہ لکھا،اقول اس کی حاجت کیوں نہیں حاجت ہے کیونکہ اگر شرعًا اور عادۃً کسی وقت قریش کا خلافت کےلئے نااہل ہوناصحیح ہوجیسا کہ ہمارے زمانہ کے بعض باطل لوگ خیال کرتے ہیں حالانکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا حکم ہے کہ"کبھی بھی خلافت غیر قریش کو نہ دی جائے"تو خلافت اس نااہلیت کے زمانہ میں نااہل کو خلیفہ بنانے کا حکم ہوگا جو کہ محال ہے،پھر معلوم نہیں یہ کیا تاویل اور کیا ظاہر سے پھر ناہوا،حالانکہ یہ توصرف منطوقِ حدیث سے ایك مفاد کا استنباط ہے،فافھم۱۲منہ(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع