30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نعوذ باﷲ ممالایرضاہ والصلٰوۃ والسلام علی مصطفاہ واٰلہ وصحبہ الاکارم الھداہ۔
فصل سوم
رسالہ خلافت میں مسٹر ابو لکلام آزاد کی تلبیسات و ہذیانات کی خدمتگاری
یہ ۳۵رد قاہر خطبہ صدارت فرنگی محلی کی ۱۵سطری تحریر پر قلم برداشتہ تھے،اب بعونہ تعالٰی چار حرف ان کے بڑے آزاد لیڈر صاحب کی تحریر پر بھی گزارش ہوں وباﷲ التوفیق۔اور سلسلہ شمار وہی رہے کہ بعضھمم من بعض یہاں کلام چند مبحث پر ہے۔
مبحث اول: مسٹر کا قیاسی ڈھکوسلے سے دین کو رد کرنا
(۳۶)مسٹر آزاد نے بڑازور اس پر دیا ہے کہ"اسلام تو قومی امتیاز کے اٹھانے کو آیا ہے پھر وہ خلافت کو قریش کے لئے کیسے خاص کرسکتا ہے"یہ اعتراض مسٹر آزاد کا طبع زاد نہیں خارجی خبیثوں سے سیکھا ہے،
|
" کَذٰلِکَ قَالَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبْلِہِمۡ مِّثْلَ قَوْلِہِمْؕ تَشٰبَہَتْ قُلُوۡبُہُمْؕ "[1]۔ |
یونہی ان کے اگلوں نے انہیں کی سی کہی تھی ان کے دل ایك سے ہیں۔ |
خارجیوں نے بھی یہی اعتراض کیا تھا جس کا اہلسنت نے رد کیا، مقاصد میں ہے:
|
یشترط کونہ قرشیا خالفت الخوارج لانہ لاعبرۃ بالنسب فی مصالح الملك والدین وردبان لشرف الانساب اثرافی جمیع الآراء وبذل الطاعۃ ولااشرف من قریش سیما وقد ظھر منھم خیرالانبیاء [2] (ملخصًا) |
امام کا قریشی ہونا شرط ہے اور خارجیوں نے اس میں خلاف کیا اس دلیل سے کہ مصالح سلطنت ودین میں نسب کا کچھ اعتبار نہیں،اہلسنت نے اس کا رد کیا کہ ضرور شرفِ نسب کو اس میں اثر ہے کہ رعایا کی رائیں اس پر اتفاق کریں اور دل خوشی سے اس کے مطیع ہوں،اور قریش کے برابر کوئی شرف نہیں خصوصًا اس حالت میں کہ افضل الانبیاء صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے انہیں میں سے ظہورفرمایا۔(ملخصًا) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع