30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اکھیڑا جائے،مذہب اہلسنت وجماعت ادھیڑا جائے،سلطان اسلام بلکہ اعظم سلاطین موجودہ اسلام کی اعانت بقدر قدرت کیا واجب نہ تھی،ظاہرًا اس شق مسلمین ورداجماع صحابہ وائمہ دین ومخالفتِ مذہب اہلسنت وجماعت وموافقتِ خوارج وغیرہم اہل ضلالت میں تین فائدے سوچے:
اولا درپردہ حمایت ترکوں سے مخالفت جس پر باعث وہابیہ و دیوبندیہ سے یارانہ موافقت،وہابی ودیوبندی ترکوں کو ابوجہل کے برابر مشرك جانتے ہیں جیسا کہ تمام اہلسنت کو یوں ہی مانتے ہیں لہذا دل میں ان کے پکے دشمن ہیں اور دوست کا دشمن اپنا دشمن،اس لئے ان کی حمایت اس آواز سے اٹھائی جس میں مخالفت پیداہو۔
ثانیًا اپنے محسودین اہلسنت سے بخار نکالنا،معلوم تھا کہ کر تو کچھ نہیں سکتے نہ خود نہ وہ،خالی چیخ پکار کا نام حمایت رکھنا ہے،اہل محفل و دین اول تو غوغائے بے ثمر کو خود ہی عبث جان کر صرف توجہ الی اﷲ پر قانع رہیں گے اور اگر شاید شرکت چاہیں تو انہیں مذہب اہلسنت ہر شیئ سے زیادہ عزیز ہے مذہب ہی ان کے نزدیك چیز ہے لہذا ایسے لفظ کی چلاہٹ ڈالو جو خلاف مذہب اہلسنت ہو کہ وہ شریك ہوتے ہوں تو نہ ہوں،اورکہنے کو موقع مل جائے کہ دیکھئے انہیں مسلمانوں سے ہمدردی نہیں یہ تو معاذ اﷲ نصاری سے ملے ہوئے ہیں تاکہ عوام ان سے بھڑکیں اور دیوبندیت ووہابیت کے پنجے جمیں۔
ثالثًا ترکوں کی حمایت تو محض دھوکے کی ٹٹی ہے اصل مقصود بغلامی ہنود وسوراج کی چکھی ہے،بڑے بڑے لیڈروں نے جس کی تصریح کردی ہے بھاری بھر کم خلافت کا نام لو عوام بپھری چندہ خوب ملے اور گنگا و جمنا کی مقدس زمینیں آزاد کرانے کا کام چلے ؎
اے پس رومشرکان بزمزم نرسی
کیں رہ کہ تومیروی بہ گنگ وجمن ست
(اے مشرکوں کے پیروکار!تو زمزم تك نہیں پہنچ سکتا جس راہ پر تو چل رہا ہے یہ گنگا و جمنا کو جاتا ہے۔ت)
نسأل اﷲ العفووالعافیۃ
ترکی سلاطین اسلام پر رحمتیں ہوں وہ خود اہلسنت تھے اور ہیں مخالفت انہیں کیونکر گواراہوتی،انہوں نے خود خلافت شرعیہ کا دعوٰی نہ فرمایا اپنے آپکو سلطان ہی کہا سلطان ہی کہلوایا اس لحاظ مذہب کی برکت نے انہیں وہ پیارا خطاب دلایا کہ امیرالمومنین وخلیفۃ المسلمین سے دلکشی میں کم نہ آیا یعنی خادم الحرمین الشریفین،کیا ان القاب سے کام نہ چلتا جب تك مذہب واجماع اہلسنت پاؤں کے نیچے نہ کچلتا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع