30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عنھا اثارۃ فتنۃ لاتطاق حکمنا بانعقاد امامتہ کی لاتکون کمن یبنی قصراویھدم مصرا[1]۔ |
فتنہ کھڑاکرنا قرار پائے تو ہم اس کی امامت کے انعقاد کا حکم دیں کے تاکہ وہ صورت نہ بنے جو شخص ایك مکان بنائے اور پورے شہر مسمار کرے(ت) |
کہ دیکھو جوزبردستی بادشاہ بن جائے اور اس کے جداکرنے میں ناقابل برداشت فتنہ ہو،اسے امام مانا،اس کی امامت کو منعقد جانا،اور یہی خلافت شرعیہ ہے،حاشایہ محض دھوکا ہے صاف تصریح کہ یہ تغلب ہے جوخلافت شرعیہ کی صریح ضد ہے نیز بلافصل اس عبارت کے بعد ہے:
|
واذا تغلب آخر علی المتغلب وقعد مکانہ العزل الاول وصار الثانی اماما۔[2] |
اس متغلب پر دوسرا تغلب کرکے اس کی جگہ بیٹھ جائے تو پہلا معزول اور اب یہ دوسر ا متغلب امام بن جائے گا۔ |
یہیں اس کے ایك سطر بعد ہے:
|
لکن الثالث فی الامام المتغلب[3]۔ |
لیکن تیسرا غلبہ پانے والے امام میں۔(ت) |
نیز باآنکہ خود سلطنت ترك میں تھے صاف لکھ دیا کہ:
|
قد یکون بالتغلب وھو الواقع فی سلاطین الزمان نصرھم الرحمٰن[4]۔ |
کبھی تغلب سے امام ہوجاتا ہے جیسے موجودہ دور کے سلاطین حضرات،اﷲ تعالٰی ان کی مدد فرمائے(ت) |
دیکھوباآنکہ سلاطین ترك کے ہاتھ پر بیعت کی جاتی تھی،عدم بعض شرائط مثل قرشیت وغیرہا کے باعث تصریح فرمادی کہ باوصف بیعت ہیں متغلبہ،رحمٰن عزوجل انہیں نصرت دے۔میں کہتاہوں آمین اللہم آمین۔بلکہ یہاں لفظ امامت کا اطلاق عرف فقہا میں وسیع تر ہے(دیکھو بدائع امام ملك العلماء ابوبکر مسعود کاشانی قدس سرہ بیان مواد عت وصلح)لاجرم یہاں امامت محض بمعنی سلطنت ہے خواہ صحیحہ جائزہ عادلہ ہو یا ظالمہ غاصبہ باطلہ نہ کہ بمعنے خلافت شرعیہ،اگرچہ اپنے محل میں وہ بھی مراد ہوتی ہے جیسے حدیث الائمۃ من قریش میں،اس کی نظیر لفظ امیر ہے کہ ہرگز خلیفہ کے ساتھ خاص نہیں،والیِ شہر وسردار حجاج کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع