30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ اپنی خوشی پر ہے چاہے خلیفہ میں قرشیت کا اعتبار کریں یانہیں،یہ شافعیہ خواہ ان کے محققین جس پر کہو افترائے کاذب ہے اور خود عقل وفہم سے بیگانہ و مجانب،شرط وہ جس کے فوت سے مشروط فوت ہو اور اختیاری وہ جس پر کچھ توقف نہ ہو،اصل بات جس کی صورت بگاڑ کر یوں دھوکا دینا چاہا یہ ہے کہ ملك پر تسلط دو طرح ہوتا ہے ایك یہ کہ اہل حل وعقد کسی جامع شرائط کو امام پسند کرکے اس کے ہاتھ پر بیعت کریں جیسے صدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ،تسلط بلامنازعت ہوجانا اس کی شرط نہیں،نہ منازع سے قتال و جدال اس کے منافی،جیسے عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
دوم یہ کہ جس کی امامت اس طرح ہوچکی ہو وہ دوسرے کے لئے وصیت کرے جیسے فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے لئے۔ خلافتِ شرعیہ انہیں دو وجہ پر ہوتی ہے اور ہر ایك پسند و اختیار سے ہے پہلی میں اختیار و انتخاب اہل حل وعقد ہے اور دوسری میں اختیار وار تضائے خلیفہ سابق۔ان دونوں میں قرشیت وغیرہا شرائط یقینا ہیں،نہ اہل حل وعقد کو جائز کہ کسی غیر قرشی کو خلیفہ کریں نہ خلیفہ کو حلال کہ غیر قرشی کو ولی عہد کرے،توخلافت شرعیہ اختیاری ہے کہ اختیار وپسند سے ناشئی ہوتی ہے اور اس میں قرشیت وغیرہا شرائط ضروریہ لازم وضروری ہیں نہ کہ اختیاری اگرترك کی جائیں گی خلافت شرعیہ نہ ہوگی بلکہ دوم تغلب کے حکم میں رہے گی،وہ تسلط کی دوسری صورت ہے کہ کوئی شخص اپنی شوکت و سطوت سے ملك دبابیٹھے بادشاہ بن جائے اگرچہ لوگ اس کے قہر و غلبہ کے سبب اس کے ہاتھ پر بیعت بھی کریں،یہ صورت بے اختیاری و مجبوری ہے اس میں مسلمان شرائط کا لحاظ کیا کرسکتے ہیں کہ نہ ان کے اختیار سے ہے نہ اسے معزول کرنا ان کے قابو میں،یہاں اقامت جمعہ واعیاد وتزویج صغار وولایت مال وتولیت قضاء وغیرذٰلك امور مفوضہ خلیفہ میں اس کے ہاتھ کے سب کام نافذ ہوں گے،امر جائز شرعی میں اس کی اطاعت کرنی ہوگی اگرچہ قرشی نہ ہو بلکہ آزاد بھی نہ ہو حبشی غلام ہو کہ اثارت فتنہ جائزنہیں،یہ نہ صرف شافعیہ بلکہ سب اہل مذاہب مانتے ہیں اور اسے انتفائے شرط قرشیت سے علاقہ نہیں،جبرًا وجوبِ اطاعت اور،اوراس کا خلیفہ شرعی ہوجانا او ر،اطاعت ہوگی اور خلافت ہرگز نہ ہوگی،بلکہ متغلب ہوگا،ان کے بعض عوام پارٹی کے خود ساختہ امام نے یہی دھوکہ دیا ہے عبارتیں وہ نقل کرتا ہے جن میں متغلب کی اطاعت کا ذکر ہے اوران میں اپنی طرف سے پچر لگالیتا ہے کہ اسی کو خلیفہ ماننا چاہئے،یہ محض باطل ہے اور اسی میں بحث ہے نہ کہ اطاعت میں،خود انہیں محققین شافعیہ نے تصریح کی ہے کہ وہ متغلب ہوگا نہ کہ خلیفہ۔فتح الباری سے گزرا کہ قریش کے سواجو کوئی ہوگا متغلب ہوگا۔اسی میں ہے:
|
ھذاکلہ انما ھو فیما یکون بطریق الاختیار واما لو تغلب عبد بطریق الشوکۃ |
یعنی یہ سب اس حالت میں ہے کہ کسی کو بطور اختیار امامت دی جائے اور کوئی غلام اپنی شوکت سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع