30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بعد قرن وانعقد الاجماع علی اعتبار ذلك قبل ان یقع الاختلاف[1]۔ |
اور اسی پر مسلمانوں کا ہر طبقہ میں عمل رہا اور ان اختلاف کرنے والوں کے وجود سے پہلے اس پر اجماع ہولیا۔ |
الحمد ﷲ یہ ارشاد ہے امام ابوبکر باقلانی کا جس نے اس مورخ کا سفید جھوٹ اور سیاہ افتراء ثابت کیااور صحابہ وائمہ اہلسنت کو چھوڑ کر اس کا دامن تھامنے والوں کا منہ کالا کیا،وﷲ الحمد۔
(۲۳)الحمدﷲ یہاں سے فرنگی محلی تحریر کی امام قاضی عیاض پر وہ طعنہ زنی بھی باطل ہوگئی کہ ذکر اجماع کی ابتدا ان سے ہوئی امام قاضی عیاض چھٹی صدی میں تھے اور امام اہلسنت قاضی ابوبکر باقلانی چوتھی صدی میں،وہ اجماع نقل فرمارہے ہیں وﷲ الحمد۔
(۲۴)اس کے بعد تحریر فرنگی محلی میں ہے:حنفیہ کی کتب میں ایسی فضول بات نہیں جیسی شافعیہ کی کتب میں ہے کہ الائمۃ سے ہر قسم کا امام مراد ہے کہ امام شافعی کے امام فی المذہب ہونے کی تاکید ہو کیونکہ وہ قریشی تھے یہ شافعیہ نے کہیں نہ کہا کہ ہر قسم کا امام مراد ہے،نہ کوئی ادنٰی طالب علم کہہ سکتاہے کہ نماز کی امامت بھی قرشی سے خاص علماء سے دوسرا امام نہیں ہوسکتا وہ اس سے امام شافعی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے لئے ایك فضیلت ثابت کرتے ہیں کہ دوسرا عالم غیر قریشی جب دین وعلم میں امام شافعی کے برابر ہوتو اس پر بوجہ قرشیت ان کو ترجیح ہے دیکھو فتح الباری کہ:
|
الاستدلال علی تقدیم الشافعی علی من ساواہ فی العلم والدین من غیر قریش لان الشافعی قرشی[2]۔ |
امام شافعی کے برابر علم اور دین والے غیر قرشی پر امام شافعی کے مقدم ہونے پر یہ استدلال ہے کیونکہ امام شافعی قرشی تھے(ت) |
(۲۵)بالفرض ایسا ہوتا تو اس فضول بات کا یہاں ذکر اس سے بدتر فضول،جس سے مطلب ہوتو صرف اتنا کہ جاہل عوام سمجھیں کہ اصل مسئلہ خلافتِ قریش ہی بعض شافعیہ کی فضول ہے کتبِ حنفیہ اس سے پاك ہیں۔
(۲۶)پھر کہا پھر بھی محققین شافعیہ اس کو شرط اختیاری کہنے پر مجبور ہوئے،یہ پھر بھی اسی قصہ تلبیس کی تائید ہے کہ نفس خلافت قریش کو شافعیہ کی فضول کہا کہ اسی کو اختیار ی کہا ہے پھر اس میں شافعیہ کی تخصیص ایك تلبیس اور ان میں بھی محققین کی قید دوسراکید،اور لفظ اختیاری سے جہال کو دھوکا دیناکیدعظیم ہے،اختیاری کے معنے سمجھے جائینگے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع