30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ غیر قریشی اولٰی ہے اس نے یہ جمائی کہ قرشی بلکہ کسی عربی کی خلافت جائز ہی نہیں اور خود کہہ چکا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے صحیح حدیث میں فرمایا کہ ہمیشہ خلافت قریش ہی کےلئے ہوگی جب تك دنیا میں دو آدمی بھی رہیں یہ ہے اس کا حدیث پر ایمان،اور یہ ہے اس کا اجماع صحابہ کرام پر ایقان۔اور سرے سے یہ اشد سا اشد ظلم قابل تماشا کہ وہ عصبیت جس سے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے بشدت منع فرمایا جسے نہ قریش بلکہ تمام عرب کے دل سے دھویا اسی کو اصل مقصود شارح اور خاص شرطِ خلافت ٹھہراتا ہے حالانکہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
من قاتل تحت رأیۃ عمیّۃ یغضب لعصبۃ او یدعو الی عصبۃ او ینصر عصبیۃ فقتل فقتلۃ جاہلیۃ[1]۔وفی اخری فلیس من امتی[2]۔رواہ مسلم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ |
جو کسی اندھے جھنڈے کے نیچے لڑے کہ عصبیت(یعنی قومی حمیت شیوہ جاہلیت)کے لئے غضب کرے یا عصبیت کی طر ف بلائے یا عصبیت کی مدد کرے اور ماراجائے تو ایسا ہی ہے جیسے کوئی جاہلیت وزمانہ کفروغفلت میں قتل کیاجائے اور دوسری روایت میں ہے وہ میری امت سے نہیں(اسے مسلم نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت) |
نیز فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم:
|
لیس منا من دعا الٰی عصبیۃ ولیس منا من قاتل عصبیۃ ولیس منامن مات علی عصبیۃ[3]۔رواہ ابو داؤد عن جبیر بن مطعم رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ |
ہمارے گروہ سے نہیں جو عصبیت(قومی حمیت)کی طرف بلائے، ہم میں سے نہیں جوعصبیت پر لڑے،ہم سے نہیں جو عصبیت پر مرے،(اسے ابوداؤد نے جبیر بن مطعم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت) |
تو شارع صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے مبغوض کو شارع کا مقصود بنانا کہ کیسا شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام پر افترائے بیباك واجترائے ناپاك ہے والعیاذ باﷲ تعالٰی عجب ایك مدعی سنیت ہے کہ صحابہ وائمہ و خود ارشاد حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سب کو پیٹھ کر ایك گمراہ مخالف حدیث وخارقِ اجماع ومحدث فی الدین کا دامن تھامے ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
(۲۱)تحریر فرنگی محلی نے اتنا بھی نہ دیکھا کہ وہ صراحۃً اجماع صحابہ لکھ کر پھر امام باقلانی کو اس کا مخالف اورخارجی مذہب کا موافق لکھتا ہے اس نے کہا تو کہا،ایك مدعی سنیت کو تو امام سنت پر ایسے شنیع الزام رکھتے شرم چاہئے تھی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع