30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
غرض یہاں تك بھی دونوں پلے بچائے مگر نفی کا پلہ غالب کردیا کہ یہ حقیقت ہے اور یہاں قرشیت کا لگاؤ رہنا مجاز،اب اندیشہ کیا کہ لوگ خارجی معتزلی سمجھیں گے کہ صحابہ کا اجماع چھوڑ کر ان گمراہوں کی تقلیدکی،اس کے علاج کو یہ مخالفت امام سنت کے سر رکھ دی اور کہا:
|
ومن القائلین بنفی اشتراط القرشیۃ القاضی ابوبکر الباقلانی لما ادرك عصبیۃ قریش من التلاشی فاسقط شرط القرشیۃ وان کان موافقالرأی الخوارج وبقی الجمہور علی القول باشتراطہا ولو کان عاجزا عن القیام بامور المسلمین ورد علیھم سقوط شرط الکفایۃ لانہ اذاذھبت الشوکۃ بذھاب العصبیۃ فقد ذھبت الکفایۃ واذا وقع الاخلال بشرط الکفایۃ واذاوقع الاخلال بشرط الکفایۃ تطرق ذٰلك ایضا الی العلم و الدین وسقط اعتبار شروط ھذاالمنصب وھو خلاف الاجماع[1] (ملخصًا) |
یعنی امام قاضی ابوبکر باقلانی نے قرشیت شرط نہ مانی کہ قریش کی حمیت فنا ہوگئی ولہذا اس کی شرط انہوں نے ساقط کردی اگرچہ یہ خارجیوں کے مذہب کے موافق ہے اور جمہور اب بھی شرطِ قرشیت مانتے رہے اگرچہ خلیفہ مسلمانوں کا کام بنانے سے عاجز ہو اور ان پر یہ اعتراض ہے کہ لیاقت کار کی شرط جاتی رہی کہ جب حمیت جانے سے شوکت گئی کام کیا بناسکے گا اور جب شرط کفایت چھوٹی یہی راہ شر ط علم وشرط دین کی طرف چلے گی اور خلافت کی شرطیں ساقط الاعتبار ہوجائیں گی اور یہ خلافِ اجماع ہے(ملخصًا) |
اس کلام کے پیچ دیکھئے کیا کیا کروٹیں بدلی ہیں،اول امام سنت پر وہ تہمت رکھی کہ قریش کی بے حمیتی دیکھ کر شرطِ قرشیت ساقط کر بیٹھے،یہ اپنابچاؤ اور جانب نفی کی تائید تھی کہ ایك مجھی کو شرطِ قرشیت میں کلام نہیں،اہلسنت کے اتنے بڑے امام اسے استعفا دے چکے ہیں،پھر ساتھ ہی کہہ دیا کہ اس میں وہ خارجیوں کے مذہب پر چلے،یہ جانب اثبات کی رعایت سے کہی،پھر اسی پہلو کا لحاظ بڑھایا کہ جمہور اسی پر رہے،پھر پہلوئے نفی کو کروٹ لی کہ ان پر بے اعتباری شرائط کا الزام قائم ہوتا ہے،یہ جھوٹا الزام صراحۃً خود اس پر حق تھا کہ قرشیت شرط تھی اور اس نے ساقط کی تو یوں ہی علم ودین وکفایت بھی ساقط ہوسکیں گی اور راہ ہر شرط کی طرف چلے گی اور جاہل بے دین عاجز چمار کو خلیفہ کردینا جائز ہوجائے گااور یہ خلافِ اجماع ہے،اس کی پیش بندی کی کہ جمہور اہلسنت کے سر پر افترا جڑدیا کہ وہ صرف قرشیت چاہتے ہیں اگرچہ کام سے بالکل عاجز ہو حالانکہ کتبِ عقائد وفقہ وحدیث شاہد ہیں کہ قرشیت و قدرت دونوں شرط ہیں اور ان کے ساتھ اسلام وحریت وذکورت وبلوغ بھی نہ یہ کہ صرف قریشی ہونا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع