30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اثنان[1] (خلافت قریش کےلئے جب تك دنیا میں دو آدمی بھی ہیں۔ت)سے استدلال ائمہ کا کیا رد ہوا،کیا کسی حدیث میں یہ بھی آیاکہ:
|
لایزال القضاء فی الانصار وھذاالاذان فی الحبشۃ مابقی من الناس اثنان۔ |
ہمیشہ عہدہ قضا انصار میں اور عہدہ اذان حبشیوں میں رہے جب تك دنیا میں دو آدمی بھی رہیں۔ |
جب ائمہ فرماچکے کہ صحابہ کرام نے حدیث سے حصر سمجھا اور اسی پر عمل فرمایاتو صحابہ کے مقابل اپنی چہ میگوئیاں نکالنا کیا شان دین ہے۔
(۱۵ و ۱۶)محققین اہلسنت عمومًا اور امام ابوبکر باقلانی کی طرف خصوصًا اس نسبت کی جرأت کہ قرشیت کی شرط سے بالکل عدول کرتے ہیں کس قدر دروغ بیمزہ ہے اکابر ائمہ اعاظم علماء اجماع صحابہ اجماع تابعین اجماع امت نقل فرمارہے ہیں ناقلان خلاف،صرف خارجیوں معتزلیوں کا خلاف بتاتے ہیں،مخالفت میں ضرار و کعبی دو گمراہوں کے قول نقل کرتے ہیں معاذا ﷲ اگر تمام محققینِ اہل سنت درکنار صرف امام سنت باقلانی کا خلاف ہوتا تو خارجیوں معتزلیوں کو مخالف بتایا جاتا،دوگمراہوں کا نام ان کے نام نامی سے زیادہ پیارا اور قابلِ ذکر عظمت والا تھا کہ انہیں چھوڑ کر ان دو کا نام گنایا جاتا۔شرح عقائد نسفی کے الفاظ تو آبِ زر سے لکھنے کے ہیں کہ"لم یخالف الاالخوارج وبعض المعزلۃ"[2]اس میں کسی نے خلاف نہ کیا سوا خارجیوں اور بعض معتزلیوں کے تمام نقول اجماع کا یہی مطلب ہے مگر اس میں محققین اہلسنت وامام باقلانی کی طرف اس نسبت باطلہ کی روشن تر تفضیح ہے وﷲ الحمد اجلہ اکابر ائمہ اہلسنت ائمہ کلام واکابرحدیث واعاظم فقہ سب کے ارشادات پس پشت ڈالنا اور ایك متاخر مورخ ابن خلدون کے قول بے سند پر(جس کے مذہب کی بھی کوئی ٹھیك نہیں نہ تاریخ نویسی کے سواکسی علم دینی میں اس کا نام زبانوں پر آتا ہے)سرمنڈابیٹھنا کیا شرط دین پر ستی ہے اجلہ ائمہ جہابذہ ناقدین کو نہ معلوم ہوا کہ خود امام سنت باقلانی و محققین اہلسنت اس مسئلہ میں مخالف ہیں،برابر اجماع نقل فرماتے رہے مسئلہ پر جزم ویقین فرمایا کئے اہل خلاف کو خارجی معتزلی بدعتی کہتے رہے،مگر آٹھویں صدی کے اخیرمیں اس مورخ کو حقیقت حال معلوم ہوئی کہ اس میں تو محققین اہلسنت و امام سنت مخالف ہیں۔
(۱۷)طرفہ یہ کہ ابن خلدون نے اتنا کہا تھا:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع