30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۷)امام اجل قاضی عیاض نے ابتداءً دعوٰی اجماع نہ کیا بلکہ یہ فرمایا کہ علمائے کرام نے اسے مسائلِ اجماع میں گنا تو ان سے ابتداءً بتانا تکذیب و گستاخی کی انتہا دکھاناہے۔
(۸)صدر اسلام میں ڈیڑھ سو برس تك تصانیف نہ ہوئیں،پھر اگلی صدیوں کی ہزاروں کتابیں مفقود ہوگئیں،اب صدہا مسائلِ اجماعیہ میں سب سے پہلے جس امام کے کلام میں نقل اجماع نظرآئے اسی کے سر رکھ دیا جائے کہ ابتداء ان سے معلوم ہوتی ہے کتنا آسان طریقہ رداجماع کا ہے۔
(۹)ائمہ کرام اس پر صحابہ و تابعین و سلف صالحین رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین سے اب تك تمام اہلسنت کا اجماع بتاتے،اور اسی پر کتب عقائد میں اسے قطعیہ یقینیہ فرماتے ہیں اس کے مقابل اگر کسی صحابی سے کوئی اثر ملے تو اگر وہ انعقاد اجماع سے پہلے کی گفتگو ہے اس سے نقض اجماع جنون خالص ہے یوں ہی اگر تاریخ معلوم نہ ہو،اور اگر بعد کی ہے اور سند صحیح نہیں تو آپ ہی مردو د اور صحیح وقابلِ تاویل ہے تو واجب التاویل ورنہ شاذروایت اجماع کے مقابل قطعًا مضمحل نہ کہ الٹا اس سے اجماع باطل۔
(۱۰)قریش میں حصر خلافت کی احادیث بیشك متواتر ہیں بہت متکلمین کی نظر احادیث پر زیادہ وسیع نہ تھی کہ فن دوسرا ہے انہوں نے خبرآحاد سمجھا تو ساتھ ہی قبول صحابہ سے قطعی یقینی بتادیا مگر مسامرہ سے گزرا کہ حافظ الحدیث امام عسقلانی نے ایك حدیث"الائمۃ من قریش"کو چالیس کے قریب صحابہ کرام سے مروی دکھایا اور اس میں مستقل رسالہ تصنیف فرمایا جس کا نام امام سخاوی نے مقاصد حسنہ میں[1]"لذۃ العیش فی طرق حدیث الائمۃمن قریش"بتایایہ عدد صحابہ کرام میں یقینا تو اتر کاہے یہ ایك حدیث کا حال تھا اسی مدعا پر اور احادیث علاوہ۔
(۱۱)اس سے قطع نظر کیجئے تو اس قدر تو آج کل کی قاصر نگاہوں سے بھی نظر آرہاہے کہ وہ بلاشبہہ مشہور اور بالفاظ عدیدہ وطرق کثیرہ بہت صحابہ کرام سے ماثور،اور برابر صدر اول سے امت مرحومہ میں احتجاج وعمل کیلئے مقبول ومنظور،پھر اس کے خاص الفاظ کے احاد سے ہونے کا ذکر جس کا جواب علمائے عقائد مواقف و شرح مقاصد و شرح مواقف وغیرہامیں دے چکے کیا انصاف ہے۔
(۱۲)ائمہ نے"الائمۃ من قریش"سے استدلال فرمایا اور جمع محلی باللام کے افادہ استغراق سے اتمام تقریب فرمادیا اسے"الخلافۃ فی قریش"سے بدلنا اور"القضاء فی الانصار"سے نقض کرنا کیا مقتضائے دیانت ہے۔
(۱۳)حدیث صحیح"لایزال ھذاالامر فی قریش مابقی من الناس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع