30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت مولٰنا عــــہ عبدالقادر صاحب بدایونی مرحوم اپنے رسالہ عقائد احسن الکلام میں فرماتے ہیں:
|
نعتقد انہ یجب علی المسلمین نصب امام من قریش۔[1] |
ہم پر اہلسنت کا عقیدہ ہے کہ مسلمانوں پر قریشی خلیفہ قائم کرنا فرض ہے۔ |
نوع دگراز کتب عقائد
علامہ ۸۸سعد الدین تفتازانی شرح عقائد میں فرماتے ہیں:
|
فان قیل فعلی ماذکرمن ان مدۃ الخلافۃ ثلثون سنۃ یکون الزمان بعد الخلفاء الراشدین خالیا عن الامام فتعصی الامۃ کلھم،قلنا المراد بالخلافۃ الکاملۃ ولوسلم فلعل الخلافۃ تنقضی دون الامامۃ بناء علی ان الامامۃ اعم لکن ھذا الاصطلاح لم نجدہ من القوم واما بعد الخلفاء العباسیۃ فالامر مشکل [2](ملخصًا) |
یعنی اگر کہا جائے کہ جب خلافت حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے بعد تیس ہی برس رہی تو خلفائے راشدین رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے بعد زمانہ امام سے خالی رہا اورمعاذاﷲ تمام امت گنہگار ٹھہری کہ نصب امام امت پر واجب تھا تو ہم جواب دیں گے کہ وہ جو تیس برس پر ختم ہوگئی خلافت راشدہ کا ملہ تھی نہ کہ مطلق خلافت،اور اگر تسلیم بھی کرلیں تو شاید خلافت ختم ہوگئی امامت بعد کو رہی اور واجب نصب امام ہی تھا تو امت گنہگار نہ ہوئی یہ اس پر مبنی ہوگا کہ امامت خلافت سے عام ہے مگر ہم نے قوم سے یہ اصطلاح نہ پائی،بہرحال جب سے خلفائے عباسیہ نہ رہے امر مشکل ہے کہ اس وقت سے نہ کوئی امام ہے نہ کوئی خلیفہ،تو اعتراض نہ اٹھاانتہی (ملخصًا)۔ |
اقول اولًا: صحیح جواب اول ہے اور اشکال کا جواب خود علامہ کے کلام سے آتا ہے اس وقت نظر اس پر نہ کہی تھی۔
ثانیًا امامت بیشك عام ہے جس کا بیان ہم کرینگے ان شاء اﷲ۔نیز ۸۹علامہ موصوف شرح مقاصد میں اسی اعتراض کو ذکر کرکے بہت صحیح وواضح جواب سے دفع فرماتے ہیں:
|
فان قیل لووجب نصب الامام لزم |
اگر کہا جائے کہ نصب امام واجب ہوتا تو اکثر |
عــــہ:مذکور متلڈر بدایونی(ہداۃ اﷲ تعالٰی)کے پردادا۱۲ حشمت علی قادر رضوی لکھنوی غفرلہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع