30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بالجملہ دربارہ خلافت ہر طبقے اور ہر مذہب کے علمائے اہلسنت ایسا ہی فرماتے آئے یہاں تك کہ اب دورِ آخر میں مولوی عبدالباری صاحب کے جد اعلٰی حضرت ملك العلماء ۸۴بحر العلوم عبدالعلی لکھنوی فرنگی محلی رحمہ اﷲ تعالٰی نے شرح فقہ اکبر سید ناامام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ میں خلافتِ صدیقی پر اجماع قطعی کے منعقد ہونے میں فرمایا:
|
باقی ماند کہ سعد بن عبادہ از بیعت متخلف ماند میگویم کہ سعد بن عبادہ امارات خود می خواست وایں مخالف نص ست چہ حضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرمودہ اند الائمۃ من قریش ائمہ از قریش اند پس مخالفت اودراجماع قدح ندارد چہ مخالفت مررائہاے صحابہ نبود بلکہ مخالفتِ اجماع واواعتبار ندارد[1]۔ |
باقی رہایہ کہ سعد بن عبادہ نے بیعت نہ کی،تو ہم کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ اپنے لئے خلافت کے خواہشمند تھے ان کی یہ خواہش نص کے خلاف تھی کیونکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ائمہ قریش میں سے ہوں گے لہذا ان کی مخالفت اجماع پر اثر انداز نہیں ہے کیونکہ یہ محض صحابہ کرام کی رائے کی مخالفت نہ تھی بلکہ اجماع کی مخالفت تھی جس کا اعتبار نہیں ہے۔(ت) |
پھر ۸۵خلافت فاروقی پر انعقاد اجماع میں فرمایا:
|
ہمہ صحابہ بر آں عمل کردند و بیعت حضرت امیرا لمومنین عمر کردند و دریں ہم کسے مخالفت نکرد سوائے سعد بن عبادہ لیکن مخالفت او مخالفت نص بود چہ امارت خود میخو است چنانچہ دانستی[2]۔ |
تمام صحابہ نے اس حدیث پر عمل کیا اور امیر المومنین عمر فاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی بیعت کی ا س میں بھی سوائے سعد بن عبادہ کے کسی نے مخالفت نہ کی لیکن ان کی مخالفت نص کے خلاف تھی کیونکہ وہ اپنے لئے امارت کے خواہشمند تھے جیسا کہ آپ نے جان لیا۔(ت) |
اب سب سے اخیر دور میں حضرت مولانا فضل عــــہ رسول صاحب مرحوم اپنی کتاب عقائد المعتقد المنتقد میں فرماتے ہیں:
|
یشترط نسب قریش خلافا لکثیر من المعتزلۃ ولایشترط کونہ ھا شمیا خلافا للرافض[3]۔ |
خلیفہ کا قریشی النسب ہونا شرط ہے برخلاف بہت معتزلیوں کے،اور ہاشمی ہونا شرط نہیں برخلاف رافضیوں کے۔ |
عــــہ:بدایونی لیڈر عبدالماجد صاحب کے دادا کے دادا ۱۲ حشمت علی لکھنو عفی عنہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع