30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۷۴عمدۃ القاری و۷۵ کواکب الدراری و۷۶مجمع البحار میں ہے:
|
ھذافی الامراء والعمال دون الخلفاء لان الحبشی لایتولی الخلافۃ لان الائمۃ من قریش[1]۔ |
یہ حدیث سرداروں اور عاملوں میں ہے حبشی خلیفہ نہ ہوگا کہ خلفاء تو قریش سے ہیں |
۷۷مہلب پھر ۷۸ابن بطال پھر ۷۹ابن حجر نے فتح میں کہا:
|
قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اسمعوا واطیعوا لایوجب ان یکون المستعمل للعبد الاامام قرشی لما تقدم ان الامامۃ لاتکون الافی قریش[2]۔ |
نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد کہ غلام کی اطاعت کرو اسی کو واجب کرتا ہے کہ غلام کو قریشی خلیفہ نے عامل بنایا ہو کہ خلافت تو نہیں مگر قریش میں۔ |
۸۰فتح الباری و۸۱ارشاد الساری و۸۲ مرقاۃ قاری میں ہے:
|
واللفظ لھا(وان استعمل علیکم عبد حبشی)ای وان استعملہ الامام الاعظم علی القوم لاان العبد الحبشی ھوالامام الاعظم فان الائمۃ من قریش[3]۔ |
اگرچہ تم پر غلام حبشی عامل کیا جائے یعنی اگرچہ خلیفہ کسی غلام کو عامل بنائے نہ یہ کہ خود غلام حبشی خلیفہ ہوکہ خلفاء تو قریش سے ہیں۔ |
۸۳مجمع البحار الانوار میں ہے:
|
شرط الامام الحریۃ والقرشیۃ ولیس فی الحدیث انہ یکون امامابل یفوض الیہ الامام امرامن الامور[4]۔ |
خلیفہ کےلئے شرط ہے کہ آزاد وقریشی ہو او رحدیث میں یہ نہیں کہ غلام خلیفہ ہو بلکہ یہ مراد کہ خلیفہ اسے کوئی کام سپرد کردے۔ |
اقول:(میں کہتا ہوں۔ت)بلکہ خود حدیث صحیح میں اس معنی کی تصریح صریح موجود جس کابیان فصل سوم میں آئے گا ان شاء اﷲ الغفور الودود۔
[1] عمدۃ القاری کتاب الاحکام باب السمع والطاعۃ ادارۃ المنیریۃ دمشق ۲۳/ ۲۲۴
[2] فتح الباری شرح البخاری باب السمع والطاعۃ مصطفی البابی مصر ۱۶/ ۳۴۰
[3] مرقات المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الامارۃ الفصل الاول مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۷/ ۲۴۶
[4] مجمع بحار الانوار تحت لفظ جدع مکتبہ دارالایمان مدینہ منورہ ۱/ ۳۳۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع