30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۶۷عمدۃ القاری و۶۸فتح الباری کتاب الاحکام میں اسی حدیث کے نیچے ہے:
|
ای جعل عاملا بان امرامارۃ عامۃ علی البلد مثلا او ولی فیھا ولایۃ خاصۃ کالامامۃ فی الصلٰوۃ اوجبایۃ الخراج او مباشرۃ الحرب فقد کان فی زمن الخلفاء الراشدین من تجمع لہ الامور الثلثۃ ومن یختص ببعضھا۔[1] |
مراد یہ ہے کہ وہ عامل کیا جائے،یوں کہ خلیفہ غلام حبشی کو کسی شہر کا عام والی کردے یا کسی خاص منصب کی ولایت دے جیسے نماز کی امامت یا خراج کی تحصیل یا کسی لشکر کی سرداری،خلفائے راشدین کے زمانے میں یہ تینوں باتیں بعض میں جمع ہوجاتی تھیں اورکسی میں بعض۔ |
۶۹امام ابوسلیمٰن خطابی پھر ۷۰امام عینی و۷۱امام عسقلانی ۷۲علی قاری نے فرمایا:
|
قدیضرب المثل بمالایقع فی الوجود وھذا من ذاك واطلق العبد الحبشی مبالغۃ فی الامر بالطاعۃ وان کان لایتصور شرعا ان یلی ذٰلک[2] اھ بلفظ المرقاۃ قال الخطابی قدیضرب المثل بمالایکاد یصح فی الوجود[3]۔ |
یعنی کبھی ضرب مثل میں وہ بات کہی جاتی ہے جو واقع نہ ہوگی،یہ حدیث اسی قبیل سے ہے،حبشی کاذکر حکمِ اطاعت میں مبالغہ کے لئے فرمایااگرچہ حبشی غلام کا ولی بننا شرعًا متصور نہیں،مرقاۃ کے الفاظ یہ ہیں خطابی نے کہا کبھی مثل میں وہ بات کہی جاتی ہے جوواقع نہ ہوگی۔(ت) |
۷۳اشعۃ اللمعات میں ہے:
|
ذکر عبد برائے مبالغہ است بروتیرہ قول آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہر کہ بناکند مسجدے اگرچہ مثل آشیانہ کنجشك و مرمسجد ہر گز مثل آشیانہ کنجشك نباشد لیکن مقصود مبالغہ است یا مراد نائب خلیفہ است[4]۔ |
غلام کا ذکر بطور مبالغہ ہے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس ارشاد کے طور پر،جو مسجد بنائے اگرچہ چڑیا کے گھونسلے کی مثل ہو،حلانکہ مسجد ہرگز چڑیا کے گھونسلے کی مثل نہیں ہوتی،لیکن مقصود مبالغہ ہے یا خلیفہ کا کوئی نائب مراد ہے(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع