30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہ سمجھ بیٹھے کہ غیر قرشی خلیفہ ہوسکتاہے لہذا حضرت امیر معاویہ نے خطبہ پڑھا کہ کوئی غیر قرشی خلیفہ نہیں ہوسکتا اوراس پر کسی صحابی وتابعی نے انکار نہ کیا تو معلوم ہوا کہ ان سب کا یہی مذہب ہے۔
۴۳مہلب پھر ابن ۴۴بطال پھر ۴۵عینی و۴۶عسقلانی و۴۷قسطلانی سب شروح بخاری میں فرماتے ہیں:
|
ان القحطانی اذاقام ولیس من بیت النبوۃ ولا من قریش الذین جعل اﷲ فیھم الخلافۃ فھو من اکبر تغیر الزمان وتبدیل الاحکام[1]۔ |
جب قحطانی قائم ہوگا اور وہ نہ خاندان نبوت سے ہے نہ قریش سے جن میں اﷲ عزوجل نے خلافت رکھی ہے تو یہ ایك بڑا تغیر زمانہ اور احکامِ شریعت کی تبدیل ہوگا۔ |
۴۸امام اجل قاضی عیاضی پھر ۴۹امام ابو زکریا نووی شرح صحیح مسلم میں فرماتے ہیں:
|
اشتراط کونہ قرشیا ھو مذھب العلماء کافۃ وقد احتج بہ ابوبکر وعمر علی الانصار یوم السقیفۃ فلم ینکرہ احدوقد عدھا العلماء فی مسائل الاجماع ولم ینقل عن احد من السلف فیھا قول ولافعل یخالف ماذکرنا وکذٰلك من بعدھم فی جمیع الاعصار ولااعتداد بقول النظام ومن وافقہ من الخوارج واھل البدع انہ یجوز کونہ من غیر قریش لما ھو علیہ من مخالفۃ اجماع المسلمین۔[2] |
خلیفہ میں قرشی ہونےکی شرط جمیع علماء کا مذہب ہے اور بیشك اسی سے صدیق اکبر فاروق اعظم نے روز سقیفہ انصار پر حجت قائم فرمائی اور صحابہ میں کسی نے اس کا انکار نہ کیااور بیشك علماء نے اسے مسائل اجماع میں گنا اور سلف صالح میں کوئی قول یا فعل اس کے خلاف منقول نہ ہوا،یونہی تمام زمانوں میں علماء سے مابعد سے اور وہ جو نظام معتزلی اور خارجیوں اور بدمذہبوں نے کہا کہ غیر قریشی بھی خلیفہ ہوسکتا ہے کچھ گنتی شمار میں نہیں کہ اجماع مسلمین کے خلاف ہے۔ |
۵۰شیخ عبدالحق محدث دہلوی اشعۃ اللمعات میں فرماتے ہیں:
|
گفت آں حضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہمیشہ می باشد امر خلافت در قریش یعنی مے باید کہ در ایشاں باشد وجائز نیست شرعا عقد خلافت مر غیر ایشاں را وبریں منعقد شد اجماع در زمن صحابہ وبایں حجت |
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:خلافت ہمیشہ قریش میں ہوگی یعنی انہی میں ہونا چاہئے اور شرعًا ان کے غیر میں خلافت کا انعقاد جائز نہیں صحابہ کے زمانہ میں اس پر اجماع ہوچکا ہے اور اسی حدیث کو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع