30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
منھم احد[1]۔ |
خلافت صحیح نہیں۔ |
۳۰امام نووی شرح صحیح مسلم پھر ۳۱امام قسطلانی شرح بخاری اور ۳۲علامہ طیبی و ۳۳علامہ سید شریف و۳۴علی قاری شروحِ مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں:
|
ھذہ الاحادیث واشباھھا دلیل ظاھر ان الخلافۃ مختصۃ لقریش لایجوز عقدھا لاحد من غیرھم وعلی ھذا انعقد الاجماع فی زمن الصحابۃ وکذلك بعدھم ومن خالف فیہ من اھل البدع اواعرض بخلاف من غیرھم فھو محجوج باجماع الصحابۃ و التابعین فمن بعدھم بالاحادیث الصحیحۃ[2]۔ |
یہ حدیث اور ان کے مثل اور احادیث روشن دلیلیں ہیں کہ خلافت قریش کے ساتھ خاص ہے ان کے سواکسی کو خلیفہ بنانا جائز نہیں،اسی پر زمانہ صحابہ میں یوں ہی ان کے بعد اجماع منعقد ہواتو جن بدمذہبوں نے اس میں خلاف کیا یا جس نے اور کسی کے خلاف کا اشارہ کیا اس کاقول صحابہ تابعین وعلمائے مابعد کے اجماع اورصحیح حدیثوں سے مردود ہے۔ |
۳۵علامہ ابن المنیر پھر حافظ ۳۶عسقلانی شرح صحیح بخاری میں لکھتے ہیں:
|
الصحابۃ اتفقواعلی افادۃ المفھوم للحصر خلافا لمن انکرذلك والی ھذاذھب جمھور اھل العلم ان شرط الامام ان یکون قرشیا وقالت الخوارج وطائفۃ من المعتزلۃ یجوز ان یکون الامام غیرقرشی وبالغ ضرار بن عمرو فقال تولیۃ غیر القرشی اولی وقال ابو بکر الطیب لم یعرج المسلمون علی ھذاالقول بعد ثبوت حدیث الائمۃ من قریش وعمل المسلمون بہ قرنابعد قرن وانعقد الاجماع علی اعتبار ذالك قبل ان یقع |
یعنی صحابہ نے اتفاق فرمایا کہ حدیث الائمۃ من قریش خلافت کا قریشی میں حصر فرماتی ہے بر خلاف اس کے جواس کا منکر ہو،اور یہی مذہب جمہور اہل علم کا ہے کہ خلیفہ کے لئے قریشی ہونا شرط اور خارجیوں اور ایك گروہ معتزلہ نے کہا کہ غیر قریشی بھی خلیفہ ہوسکتا ہے اور ضرار بن عمرو تو یہاں تك بڑھ گیا کہ کہا غیر قریشی کا خلیفہ کرنا بہتر ہے۔امام ابوبکر ابن الطیب نے فرمایا مسلمانوں نے اس قول کی طرف التفات نہ کیا بعداس کے کہ حدیث"الائمۃ من قریش"ثابت ہوچکی اور ہر قرن میں مسلمان اس پر عامل رہے اور اس اختلاف |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع