30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ان کی قرشیت کے آگے سر جھکادیا۔
(۶)نہ صرف سلاطین بلکہ بکثرت ائمہ وعلماء نے اسی کو خلافت جانا خلافت بغداد پر پچھلی تین صدیاں جیسی گزریں انہیں جانے دو تو یہی خلافت مصر لو جسے تم کاروانِ رفتہ کی محض ایك نمود غبار کہتے ہو۔
( ا)جب بیبرس نے مستنصر کی خلافت قائم کرنی چاہی سب میں پہلے امام اجل امام عزالدین بن عبدالسلام نے بیعت فرمائی پھر سلطان بیبرس پھر قاضی پھر امراء وغیرہم نے۔
(ب)پھر ابوالعباس حاکم بامراﷲ کے بیٹے تیسرے خلیفہ مصری مستکفی باﷲ کی خلافت کا امضا اور اس کی صحت کاثبوت امام اجل تقی الدین بن دقیق العید کے فتوے سے ہوا ان کےعہدنامہ خلافت میں تھا،
|
الحمدﷲ الذی ادام الائمۃ من قریش وجعل الناس تبعالھم فی ھذاالامرفغیرھم بالخلافۃ العظمۃ لا یدعی ولایسمّی[1]۔ |
سب خوبیاں اﷲکو جس نے خلیفہ ہمیشہ قریش میں سے کئے اور تمام لوگوں کو خلافت میں ان کو تابع کیا تو غیر قرشی کو نہ خلیفہ کہا جائے گا نہ وہ اس نام سے پکارا جائے۔ |
اس پر قاضی القضاۃ شمس الدین حنفی کے دستخط ہوئے۔
(ج)پھر مستکفی کے بیٹے ابوالعباس احمد حاکم بامر اﷲ کی صحت خلافت پر امام قاضی القضاۃ عزالدین بن جماعہ نے شہادت دی اور ان کی مثال بیعت علامہ احمد شہاب ابن فضل اﷲ نے لکھی اس میں ان کو خلیفہ جامع شرائط خلافت لکھا اور لکھا کہ:وصل الحق الٰی مستحقہ [2]حق بحقدار رسید،کل ذٰلك فی حسن المحاضرۃ(یہ سب کا سب حسن المحاضرۃ میں موجود ہے۔ت)
(د)امام اجل ابوزکریا نووی اسی خلافت مصریہ کے دور سے متعلق شرح صحیح مسلم میں فرمارہے ہیں:
|
قد ظھرما قالہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فمن زمنہ الی الاٰن الخلافۃ فی قریش [3]۔ |
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد ظاہر ہوگیا کہ جب سے آج تك خلافت قریش ہی میں ہے۔ |
دیکھو اکابر ائمہ برابر انہیں خلفاء مانتے آئے۔
(ہ)امام خاتم الحفاظ جلال الدین سیوطی نے تاریخ الخلفاء میں یہ تمام خلافتیں بغدادی پھر مصری
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع