30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۳)پھر ادھرہی کے سلاطین نہیں اس دور دراز ممکت ہند کے متشرع سلاطین نے بھی انہیں خلفاء سے اپنے نام پروانہ سلطنت کیا حالانکہ یہ کسی طرح تسلط کی راہ سے ان کے ماتحت نہ تھے، تاریخ الخلفاء میں ہے:
|
وفی سنۃ اربع عشرۃ ارسل غیاث الدین اعظم شاہ بن اسکندر شاہ ملك الھند یطلب التقلید من الخلیفۃ وارسل الیہ مالاوللسلطان ھدیۃ[1]۔ |
سنہ آٹھ سوچودہ میں بادشاہ ہند اعظم شاہ غیاث الدین بن سکندر شاہ نے خلیفہ مستعین باﷲ ابوالفضل سے اپنے لئے پروانہ تقررِ سلطنت مانگا اور خلیفہ کے لئے نذر اور سلطانِ مصر کو ہدیہ بھیجا۔ |
خود مسٹر کے اسی رسالہ خلافت ص۷۹ میں ہے:"جب تك بغداد کی خلافت رہی ہندوستان کے تمام حکمران اس کے فرماں بردار رہے جب ۶۶۰ھ عــــہ میں مصر کی عباسی خلافت کا سلسلہ شروع ہوا تو اگرچہ عباسیہ کے کارواں رفتہ کا محض ایك نمود غبار تھا تاہم سلاطین ہند اس کی حلقہ بگوشی وغلامی کو اپنے لئے فخر سمجھتے رہے اور مرکزی خلافت کی عظمت دینی نے مجبور کیا کہ اپنی حکومت کو شرعی طور پر منوادینے کے لئے مقامِ خلافت سے پروانہ نیابت حاصل کرتے رہیں"۔
پھر سلطان محمد بن تغلق شاہ وسلطان فیروز شاہ کی بندگی وغلامی جو اس خلافت سے رہی اور فیروز شاہ کے لئے دربارخلافت سے دوبار پروانہ تقرر سلطنت ونشان خلعت کاآنا لکھا اور یہ کہ سلطان نے اس کی کمال تعظیم کی اور یہ سمجھا کہ گویا یہ عزت آسمان سے اتری اور یہ سند بارگاہ رسالت سے ملی،پھر کہا(ص۸۰)
"غور کرو مقامِ خلافت کی عظمت کا ہمیشہ کیا حال رہا خلافت بغداد مٹنے کے بعد بھی خلافت کی صرف ایك اسمی نسبت بھی اس درجہ جبروت رکھتی تھی کہ ہندوستان جیسے بعید گوشہ میں ایك عظیم الشان فرمانراوئے اقلیم مصر کے دربار خلافت سے اذن واجازت حاصل ہونے پر فخر کرتاہے مٹنے پر بھی اس مقام کی عظمت تمام عالم اسلامی پر اس طرح چھائی رہتی ہے کہ وہاں کافرمان آسمانی فرمان اور وہاں کا حکم بارگاہِ نبوت کا حکم سمجھا جاتا ہے"۔
خداجانے مسٹر آزاد یہ کس جنگ یا کس نشے کی ترنگ میں لکھ گئے،ان کا اعتقاد تو یہ ہے ص۴۵ کہ:
عــــہ:یہ غلط ہے بلکہ ۹/رجب ۶۵۹ھ۔۱۲منہ غفرلہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع