30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دوسرا امیر قہری،اس کے ذمہ وہ کام ہیں جو بغیر تسلط و غلبہ و قہر کے انجام نہیں پاتے مثلًا قصاص وحدود وتعزیرات واخذ عشور واخذ خراج یہ ضرور نصب و انتخاب مسلمین پر ہے اور اسی کے ہاتھ پر بیعت کا دستور اور بلاوجہ شرعی اس سے انکار محظور،یہ اگر عام ممالك اسلامیہ پر مقرر کیا جائے تو خلیفہ و امیر المومنین ہے اوراس کے لئے سات شرطیں لازم کہ ایك بھی کم ہو تو خلیفہ نہیں متغلب ہے،۱اسلام،۲حریت،۳ذکورت،۴عقل،۵بلوغ،۶قدرت،۷قرشیت۔
علامہ قاسم بن قطلوبغا حنفی تلمیذ امام ابن الہمام تعلیقات مسایرہ میں فرماتے ہیں:
|
اماعندنا فالشروط انواع،بعضہا لازم لاتنعقد بدونہ،وھی الاسلام،والذکورۃ، والحریۃ، والعقل، و اصل الشجاعۃ،وان یکون قرشیا[1]۔ |
لیکن ہمارے نزدیك شروط مختلف طرح کی ہیں بعض ان میں سے لازم ہیں جن کے بغیر امارت کی انعقاد نہیں ہوسکتا اور وہ مسلمان ہونا،مذکر ہونا،آزاد ہونا عقل والا ہونا،دلیر ہونا اور قرشی ہونا ہے(ت) |
اور اگر کسی قطر یا شہر یا موضع خاص پر تو وہاں کا صوبہ یا والی ہے،اس کےلئے بھی عقل وبلوغ و قدرت یقینا شرط اور قرشیت کی کچھ حاجت نہیں اور تعمیمِ احکام کےلئے اسلام وحریت وذکورت بھی ضرور ائمہ نے تصریح فرمائی ہے کہ عدم سلطان کے وقت مسلمانوں پر ایسا والی مسلم تلاش کرنا واجب ہے کما فی المبسوط وجامع الفصولین ومعراج الدرایۃ وغیرہا(جیسا کہ مبسوط،جامع الفصولین اور معراج الدرایہ وغیرہ میں ہے۔ت)مگر ہر واجب بقدر قدرت ہوتا ہے اور ہر فرض بشرط استطاعت۔
|
قال اﷲ تعالٰی" لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَاؕ"[2]۔ |
اﷲ تعالٰی کا فرمان ہے:اﷲ کسی نفس کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔(ت) |
یہاں مسلمان ایسا والی مقرر کرنے پر ہر گزقادر نہیں اور اس پر واضح دلیل یہ ہیے کہ سوبرس سے آج تك ہندوستان میں ہزارہا مشائخ وعلماوصلحاوکبراء گزرے کبھی اس طرف متوجہ نہ ہوئے کیا وہ مسئلہ نہ جانتے تھے یاقصدافاسق و تارك واجب رہے،حاشا ہرگز نہیں،بلکہ انہیں معلوم تھا کہ یہ وجوب ہم پر نہیں۔شرح مقاصد میں ہے:
|
فان قیل لو وجب نصب الامام لزم اطباق الامۃ فی اکثر الاعصار علٰی |
اگر یہ اعتراض اٹھایا جائے کہ اگر امام کا مقرر کرنا واجب ہے تو لازم آئے گا کہ امت نے اکثر زمانوں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع