30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لازم تر ہوجاتا ہے کہ بعض بعض خاص دینی کام جنہیں ولاۃ وقضاۃ اٹھائے ہوتے ہیں،ان میں تاحدِ ممکن انہیں کے حکم سے تکمیل کرنی ہوتی ہے،جیسے معاملہ عنین وتنفیذ انکحہ وخیارات بلوغ وغیرہا سوائے حدودوتعزیر وقصاص جس کا اختیار غیر سلطان کونہیں،
|
فاذاعسر جمعھم علی واحد استقل کل قطر باتباع علمائہ فان کثر وافالمتبع اعلمھم فان استوااقرع بینھم[1]۔کما فی الحدیقۃ الندیۃ عن الفتاوی العتابیۃ۔ |
جب ایك پر اتفاق دشوار ہوتو ہر علاقہ کے لوگ اپنے عالم کی اتباع کرلیں،اگر علماء کثیر ہوں تو سب سے بڑے عالم کا اتباع کیا جائے،اگر علم میں برابر ہوں تو ان کے درمیان قرعہ اندازی کرلی جائے،جیسا کہ حدیقہ ندیہ میں فتاوی عتابیہ سے ہے۔(ت) |
یہ امیر شرعی کسی کے انتخاب پر نہیں بلکہ خود بانتخاب الٰہی منتخب ہے،دیانت وفقاہت میں اس کا تفرد وتفوق خود ہی اسے متعین کرتا ہے،یہاں تك کہ لوگ اگر اس کے غیر کو منتخب کریں گے خطا کریں گے اور اسی کا اتباع لازم ہوگا کہ وہی اہل ہے اور طبائع خود ہی دینی امور میں اسکی طرف رجوع پر مجبور ہوتی ہیں کہ دوسری جگہ ویساحل شافی نہیں پاتیں یہاں تك کہ اس کے اکابر اعدا،کہ بوجہ دینی یا حسد شیاطینی اس کے سخت دشمن ہوتے ہیں،اور زبردستی اس پر اپنی تعلّی چاہتے ہیں،مسائل مشکلہ کے حل کرنے میں اسکے محتاج رہتے ہیں،اپنے گمنام جاہلوں کے ذریعہ سے اس کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہیں یوں اپنے لاحل مسئلوں کی گرہ کھلواتے ہیں،
|
" ذٰلِکَ فَضْلُ اللہِ یُؤْتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَاللہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیۡمِ ﴿۲۱﴾"[2] |
یہ اﷲ تعالٰی کا فضل ہے عطا کرتا ہے جسے وہ چاہے اور اﷲ فضل عظیم کا مالك ہے۔(ت) |
اس امیر شریعت کے ہاتھ پر بیعت نہ کچھ ضرور نہ اس کے دستور،نہ اس کا ترك گناہ ومحذور،بلکہ اس کا معیار وہی ہے جواوپر مذکور،اس کے فیصلے کو بہار واڑیسہ کے جملہ علماء پر نظر تفصیلی صحیح شرعی نے جو فیصلہ کیا ہو آپ ہی منظور،
|
" وَاللہُ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴿۱۵۴﴾ "[3] "i اَلَاۤ اِلَی اللہِ تَصِیۡرُ الۡاُمُوۡرُ ﴿۵۳﴾٪"[4] |
اور اﷲ سینوں کے رازوں کو جانتا ہے اور سنو تمام امور اﷲ کی بارگاہ میں لوٹتے ہیں۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع