30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
علی الحبیب المختار واٰلہ الاطہار وصحبہ الابرار و اولیائہ الاخیار وامتہ اجمعین الی یوم القرار و بارك وسلم واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ |
پر صلوٰۃ وسلام، آپ کی آلِ اطہار، اصحاب ابرار، اولیا اخیار اور امت پر بھی قیامت تک، اور برکت وسلامتی ہو۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم(ت) |
مسئلہ۲۳:ازوانا پور محلہ شگونہ مسجد حنفیہ مسئولہ محمد حنیف خاں ۳۰ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ
بگرامی خدمت فیض درجت امام اہل سنت اعلٰی حضرت عظیم البرکۃ مولانا مولوی مفتی شاہ احمد رضاخاں صاحب مدظلہم الاقدس،السلام علیکم!گزارش خدمت ہے کہ یہاں شہر پٹنہ ایك جگہ پر مجمع ہوا،جسمیں علمائے بہار بھی شریك تھے۔اور عام لوگ بھی مولوی ابوالکلام حامی ترك موالات نے تحریك کی کہ بہار واڑیسہ کے لیے ایك امیر اسلام ہو نا چاہئے اس پر لوگوں نے حضرت اقدس شاہ بدرالدین صاحب پھلواروی کو تجویز کرکے امیرِ اسلام بنایا،اب اعلان ہے کہ لوگ شہر کے امیرِ اسلام کے ہاتھ پر بیعت کریں،لہذا حضور والا سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ امیرِ اسلام کے ہاتھ پر بیعت کرنا درست ہے یانہیں؟ اور امیرِ اسلام کےلئے کیا کیا شرائط ازروئے قرآن شریف وفقہ شریف ہونا چاہئے اور جولوگ بیعت نہ کریں کیا وہ لوگ گنہگار ہیں جواب تفصیل سے مع دلائل کے عنایت ہو بینواتوجروا۔
الجواب:امیرشریعت دو قسم ہے:اختیاری وقہری۔اختیاری وہ جو کسی پر اپنے احکام کی تنفیذ میں جبر کا اختیار نہیں رکھتا،احکامِ شریعت بتادینا اس کا کام ہے،ماننا نہ ماننا لوگوں کے اختیار،یہ امیرِ شریعت متدین فقہائے اہلِ سنت ہیں،
|
قال اﷲ تعالٰی " اَطِیۡعُوا اللہَ وَاَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ اُولِی الۡاَمْرِ مِنۡکُمْ ۚ"[1]،اولوالامر ھم العلماء علی اصح الاقوال کما قال تعالٰی وَلَوْ رَدُّوۡہُ اِلَی الرَّسُوۡلِ وَ اِلٰۤی اُولِی الۡاَمْرِ مِنْہُمْ لَعَلِمَہُ الَّذِیۡنَ یَسْتَنۡۢبِطُوۡنَہٗ مِنْہُمْ ؕ"[2]۔ |
اﷲ تعالٰی کا فرمان ہے:اے اہلِ ایمان! اﷲ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو،اور تم میں سے جو صاحبِ امر ہیں ان کی۔اصح قول کے مطابق اولوالامر سے مراد علماء ہیں جیسا کہ اﷲ تعالٰی کا فرمان ہے:اور کاش وہ اسے لوٹائیں رسول کی طرف اور اپنے ذی اختیار لوگوں کی طرف،تو ضرور ان سے اس کی حقیقت جان لیں گے وہ جس کو استنباط کرتے ہیں ان میں سے(ت) |
عدم سلطان کی حالت میں مسلمانوں پر اپنے امور دینیہ میں متدین معتمد علمائے اہلسنت کی طرف رجوع کرنا اور بھی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع