30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اَوْلِیَآءَ مِنۡ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیۡنَۚ وَمَنۡ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَلَیۡسَ مِنَ اللہِ فِیۡ شَیۡءٍ"[1] |
کو مددگار نہ بنائیں اور جو ایساکرے اسے اﷲ سے کچھ علاقہ نہیں۔ |
تفسیر ارشاد العقل وتفسیر فتوحات الٰہیہ میں اسی آیۃ کریمہ کی تفسیر میں ہے:نھواعن الاستعانۃ بھم فی الامور الدینیۃ [2] اس آیہ کریمہ میں مسلمانوں کو ا س سے منع فرمایا کہ کافروں سے کسی دینی کام میں مدد لیں، یونہی ایسی نماز قائم کرنے کےلئے جس کی بنا پر مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے اور سنی عالم کی اقتداء سے روك کر غالبًا کسی"منہم"کے پیچھے پڑھوانے پر ہو، زمین کفار ہی مناسب تھی کہ قضیہ زمین پر سرزمین ورنہ فقہائے کرام نے تو کافر کی زمین میں نما ز پڑھنے سے اتنا روکا ہے کہ مسلمان کی زمین میں بے اس کے اذن کے پڑھے اور کافر کی زمین سے بچے، اور اگر مسلمان کی زمین میں کھیتی ہے کہ اس میں نہیں پڑھ سکتا توراستے میں پڑھے اور کافر کی زمین میں نہ پڑھے، اگرچہ راستے میں نماز پڑھنا مکروہ ہے مگر یہ کراہت کافر کی زمین میں پڑھنے کی کراہت سے ہلکی ہے۔حاوی قدسی میں ہے:
|
ان اضطربین ارض مسلم و کافر یصلی فی ارض المسلم اذلم تکن مزروعۃ اولکافر یصلی فی الطریق[3]۔ |
اگر مسلمان اور کافر کی زمین کے درمیان اضطراب آگیا تو مسلمان کی زمین میں نماز ادا کی جائے گی بشرطیکہ وہ کاشت نہ ہو، اگر وہ کاشت ہے یا کافر ہی کی زمین ہے تو راستے میں نماز ادا کرلی جائے۔(ت) |
ہاں ظاہرًا یہاں اس کافر مالك زمین کا اذن ہوگا، اب ایمانی نگاہ سے یہ فرق دیکھنا چاہئے کہ کہاں تو کافر کی بے خبری میں اس کی زمین میں وہ نمازپڑھنی جس سے رضائے الٰہی مقصود ہو اور کہاں مسلمانوں کی جماعت میں تفرقہ ڈالنے اور بندگانِ الٰہی کو مسجد الٰہی سے روکنے کےلئے کافر کی دلی خوشی کہ مسلمانوں میں پھوٹ پڑے پوری کرنے کو اس کی زمین میں نماز قائم کرنی کافر کی وہ کراہت بدتر تھی جو اس کی زمین میں نماز پڑھنے سے ہوتی یا کافر کی یہ خوشی بدرجہا بدتر ہے جو اس کی کراہت قلب پر غالب آگئی اور جس کے سبب خود اس نے اپنی زمین خوش خوش نماز کیلئے دی، اول کا مقصود رضائے الٰہی ہے اور کافر کو اس سے غیظ و نفرت، اور دوم کا مقصود مسلمانوں میں تفرقہ ہے کہ نامرضی خداہے اور کافر کو اس سے سرور فرحت،" اعْتَبِرُوۡا یٰۤاُولِی الْاَبْصٰرِ ﴿۲﴾"[4] (اے اہل ابصار! عبرت حاصل کرو۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع