30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یُّضْلِلِ اللہُ فَمَا لَہٗ مِنْ ہَادٍ ﴿ۚ۳۶﴾ وَ مَنۡ یَّہۡدِ اللہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ مُّضِلٍّ ؕ "[1] |
اﷲ بندوں کو دیکھتا ہے۔ اور جسے اﷲ گمراہ کرے اس کی کوئی ہدایت کرنے والانہیں، اور جسے اﷲ ہدایت دے اسے کوئی بہکانے والا نہیں۔(ت) |
میں جانتا ہوں کہ حق کڑوالگے گا مگر کوئی مسلمان تو ایسا نکلے گا کہ رب کے حضور گردن جھکا کر سچے دل سے دیکھے، حق وباطل کومیزانِ ایمان میں پرکھے، اور اگر سب پر وہی عناد ومکابرہ کا داغ ، تو وماعلینا الاالبلاغ، اللھم الیك المشتکی وانت المستعان، وعلیك البلاغ والیك المصیر ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم(ہماری ذمہ داری بات پہنچانا تھا اے اﷲ! تیری بارگاہ میں درخواست ہے اور تو ہی مددفرمانے والا ہے، تیراکام ہی بات کا موثر فرمانا ہے، اور لوٹنا تیری طرف ہے برائی سے پھرنے اور نیکی کو بجالانے کی قوت اﷲ بلند وعظیم کے بغیرنہیں ہوسکتی۔ت)
(۴) عالم موصوف بیشك حق پر ہے اور ان لوگوں کی من گھڑت ترك موالات کہ نصارٰی سے مجرد معاملات جائزہ بھی حرام بلکہ کفر،اور ہنود سے وداد واتحاد، دلی محبت واخلاص جائز بلکہ فرض قطعی اﷲ ورسول پر افترا ہے، اس کا کچھ بیان ہوچکا اور زیادہ تفصیل کے لئے فقیر کا رسالہ المحجۃ المؤتمنۃ ہے" وَاللہُ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ اِلٰی صِرٰطٍ مُّسْتَقِیۡمٍ﴿۲۱۳﴾"[2] (اور اﷲ جسے چاہے سیدھی راہ دکھائے۔ ت)عالم موصوف پر تنخواہ داری گورنمنٹ کا افتراء کیا جائے شکایت ہے جب ان کے بڑے بڑے لیڈر وہ کچھ جتنے بہتان اللہ ورسول وقرآن عظیم پر باندھ رہے ہیں ابھی قرآن کریم کی آیات سے روشن ہوچکا کہ یہ لوگ آپ ہی ترك موالات کے منکر اور تکذیب قرآن عظیم پر مصر ہیں، پھر وہ اپنا عیب عالم پر نہ لگائیں تو کیا کھا کر جئیں، باقی رہا کفر وارتداد کا فتوٰی اور اس کے مفتی ومصدقین ومستفتی اور اس کے ماننے والوں اور اس کے سبب عالمِ دین کی توہین کرنے والوں پر شرعی احکام ، سب بعینھا وہی ہیں کہ جواب سوال اول میں گزرے اور یہ کہ عالم موصوف پر ان لوگوں کے حکم کفر وارتداد وہی اپنا عیب دوسرے کو لگانا اور فرعون ملعون کی سنت مذکورہ ہے کَذٰلِکَ قَالَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبْلِہِمۡ مِّثْلَ قَوْلِہِمْؕ تَشٰبَہَتْ قُلُوۡبُہُمْؕ"[3](ان سے اگلوں نے بھی ایسی ہی کہی ان کی سی بات، اِن کے اُن کے دل ایك سے ہیں۔ت)
(۵) جماعت اہل سنت میں(کہ محاورہ قرآن وحدیث میں وہی مومنین ہیں، کما بینہ الامام
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع