30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قرآن کی کون سنے گا، کھلے گمراہان لیام کوجانے دو، بدایوں، شاہجہان پور، لکھنؤ وغیرہ میں بڑے بڑے سنیت کا دھرم بھرنے والے بستے ہیں، دیکھئے تکذیب کلام اﷲ وتوہین رسول اﷲ وانکار شریعۃ اﷲ دیکھ کر ان میں کتنے اور کستے ہیں، مسٹر آزاد سے توبہ وقبول اسلام شائع کراتے ہیں اور نہ مانیں تو ان سے بائیکاٹ مقاطعہ مناتے ہیں، حاشانہ وہ توبہ واسلام شائع کریں نہ یہ ہرگزان کی موالات، تعظیم سے پھریں، تکذیب کی تو قرآن کی کی ان کی تو نہ کی، گالی دی تو رسول اﷲ کو انہیں تو نہ دی۔ اے تصور جویان خود گم ، ابھی حب ﷲ وبغض ﷲ کے مزے سے واقف ہی نہیں تم۔
|
" قُوۡلُوۡۤا اَسْلَمْنَا وَلَمَّا یَدْخُلِ الْاِیۡمٰنُ فِیۡ قُلُوۡبِکُمْ ؕ "[1]۔ |
کہو کہ ہم مطیع ہوئے اور ابھی ایمان تمہارے دلوں میں کہاں داخل ہوا۔(ت) |
اور جن بندگانِ خدا کو ان کا حصہ ملا ہے ان پر چرچتے ہوان کے سایہ سے کہ ان کا سایہ نہیں سایہ مصطفی ہے، مستنفرہ ہوکر بچتے ہو، یہاں سے ان کے بائیکاٹ اور ترك موالات کی حقیقت کھلتی ہے، مسلمان کا ایمان شاہد ہے کہ ترك بھائیوں کا سارا ملك چھین لیں یا کعبہ معظمہ کو معاذ اﷲ ایك ایك اینٹ کردیں ، ہرگز اﷲ ورسول وقرآن کی تکذیب وتوہین کے برابر نہیں ہوسکتا۔ اگر ان کا وہ جوش وہ نان کو آپریشن (NON CO-OPERATION)کا خروش اﷲ کے لئے ہوتا تو وہاں ایك حصہ تھا ان سے ہزار حصے ہوتا، مگر یہاں ہزاروں حصہ بھی درکنار، وہی محبت وہی پیار، وہی تعظیم وہی تکریم، وہی وداد وہی اتحاد، وہی لیڈری وہی سروری، تو ﷲانصاف کیا آفتاب سے زیادہ روشن نہ ہوا کہ ہر گز انہیں دین سے غرض نہیں، نہ دین کےلئے ان کی کوششیں ہوئیں بلکہ سب جوش وخروش بہرنا ؤنوش سوراج بس باقی ہوس، انا ﷲ وانا الیہ رجعون۔مسلمان کہلانے والو!ﷲ اپنا ایمان سنبھالو، واحد قہار کے قہر سے ڈرو، حب ﷲ وبغض ﷲ کے سامان درست کرو، نیچری دیکھ کیسا ہی معظم یا پیارا ہو دور کرو، دور بھاگو، خدا کے دشمن کو دشمن مانو، اس سے تعلق کو آگ جانو، ورنہ عنقریب دیکھ لو گے کہ تمہارے قلوب مسخ ہوگئے، تمہارے ایمان نسخ ہوگئے ،
|
فَسَتَذْکُرُوۡنَ مَاۤ اَقُوۡلُ لَکُمْ ؕ وَ اُفَوِّضُ اَمْرِیۡۤ اِلَی اللہِ ؕ اِنَّ اللہَ بَصِیۡرٌۢ بِالْعِبَادِ ﴿۴۴﴾ "[2]" مَنۡ |
توجلد وہ وقت آتا ہے کہ جو میں تم سے کہہ رہا ہوں اسے یاد کرو اور میں اپنے کام اﷲکو سونپتا ہوں، بیشك |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع