30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ثانیًا اور صاف فرمادیا کہ دونوں کے بعد حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر قرآن مجیداترنے کا ذکر کرکے فرمایا:
|
" لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنۡکُمْ شِرْعَۃً وَّمِنْہَاجًا ؕ وَلَوْ شَآءَ اللہُ لَجَعَلَکُمْ اُمَّۃً وّٰحِدَۃً"[1] |
اے توراۃ وانجیل و قرآن والو! ہم نے تم میں ہر ایك کے لئے ایك شریعت وراہ رکھی اوراﷲ چاہتا تو تم سب کو گروہِ واحد کردیتا۔ |
ثالثًا کج فہم بلیدوں یا ہٹ دھرم عنیدوں کی اس سے بھی تسکین نہ ہوتو قرآن عظیم جھوٹوں کو راہ نہیں دیتا، اس نے نہایت روشن لفظوں میں بعض احکامِ توراہِ مقدس کا احکامِ انجیل مبارك سے منسوخ ہونا بتادیا، اپنے نبی مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کا قول ذکر فرماتا ہے:
|
" وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىۃِ وَلِاُحِلَّ لَکُمۡ بَعْضَ الَّذِیۡ حُرِّمَ"[2] |
میں تمہارے پاس آیا ہوں سچا بتاتا اپنے آگے اتری کتاب تورات کو اور اس سے کہ میں تمہارے واسطے بعض وہ چیزیں حلال کردوں جو تم پر توراۃ نے حرام فرمائی تھیں۔ |
اب بھی کسی مسلمان کو مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صاحبِ شریعت ہونے میں شك ہوسکتا ہے یا منکر بجہنم اس میں شك کرنے والا مسلمان رہ سکتا ہے، انجیل میں کئی جگہ ان احکام کی تفصیل بھی ہے کہ پہلے تم سے یہ فرمایا گیا تھا اور اب میں یہ کہتا ہوں، آزاد صاحب خاص اپنا اطمینان چاہیں تو اپنی معتمدہ بائبل ہی کو دیکھ لیں آزاد صاحب تو ابوالکلام ہیں، مواقع سخن سے خوب آگاہ ہیں یہ تین آیات کریمہ تھیں" وَلْیَحْکُمْ اَہۡلُ الۡاِنۡجِیۡلِ ، لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنۡکُمْ ، وَلِاُحِلَّ لَکُمۡ "بلیغ الدہر نے جب ان کی تکذیب کی اور منہ پھاڑ کر کہہ دیاکہ مسیح صاحبِ شریعت نہ تھا تو اسے بھی تین فقروں سے مؤکد کیا:"اس کی مثال مجدد کی سی تھی، وہ کوئی شریعت نہ لایا، اس کے پاس کوئی قانون نہ تھا"تاکہ ہر آیت کے مقابلے کو ایك فقرہ تیار رہے، آیاتِ قرآن پروار کرنے کویہ ان کی ذوالفقار رہے۔ بالجملہ ایك تکذیب وہ تھی کہ اسلام نے کچھ کافروں سے محبت کا حکم دیا، دوسری تکذیب وہ کہ مسلمین و کافرین سب سے محبت اسلام کی اصل الاصول ہے، اور چار تکذیبیں ان چار فقروں سے، یہاں تك چھ تکذیبیں ہوئیں، ان چار پر کوئی گمان کرسکتا ہے کہ آزاد صاحب اب ترك موالات میں ہیں، نصارٰی سے بائیکاٹ اس زور سے کیا کہ ان کے نبی کو بھی بائیکاٹ کردیا، اگر مسلمان پر معترضا نہ کہیں کہ یہ تو سب انبیاء اور خود حضور سیدنا الانبیاء علیہم وعلیہ افضل الصلوٰۃ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع