30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اورانھیں حرمین شریفین کے علماء کے سامنے پیش کرکے ان سے دریافت کیا کہ یہ عبارات رسول گرامی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی شان میں گستاخی ہیں اور ان کا قائل کافرہے یا نہیں؟ پینتیس ۳۵ علمائے حرمین شریفین نے فتوٰی دیاکہ یہ عبارات کفریہ ہیں اور ان کے قائل کافرہیں، اب چاہئے تویہ تھا کہ ان چند سطری عبارات کو حذف کردیا جاتا اور الله تعالٰی کی بارگاہ میں توبہ کی جاتی۔ لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہوا، اور وہ کتابیں ان عبارات سمیت آج تك چھپ رہی ہیں، متحدہ پاك وہند کے اڑھائی سو سے زائد علماء اور مشائخ نے اس فتوے کی تصدیق کی، دیکھئے الصوارم الہندیہ از مولانا حشمت علی خاں رضوی رحمہ الله تعالٰی،
یہ فتوٰی علمائے دیوبند سے ذاتی مخاصمت کی بنا پر نہیں بلکہ ناموس مصطفی (صلی الله تعالٰی علیہ وسلم) کی حفاظت کی خاطر دیاتھا، مولوی مرتضی حسن دربھنگی ناظم تعلیمات شعبہ تبلیغ دارالعلوم دیوبند اس فتوٰی کے بارے میں لکھتے ہیں:
"اگر (مولانا احمد) خاں صاحب کے نزدیك بعض علمائے دیوبندواقعی ایسے ہی تھے جیساکہ انھوں نے انھیں سمجھا تو خاں صاحب پر ان علماء دیوبند کی تکفیر فرض تھی، اگروہ ان کو کافرنہ کہتے تو خود کافرہوجاتے۔"[1]
مولانا کوثر نیازی اس اختلاف اور اس کے پس منظر کاذکرکرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"اصل جھگڑا یہاں سے چلا کہ ان (علماء دیوبند) کے بعض اکابر کی خلاف احتیاط تحریروں کو امام رضا نے قابل اعتراض گردانا اور چونکہ معاملہ عظمت رسول صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کا تھا، توہین رسول صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی بنیاد پر انھیں فتووں کا نشانہ بنایا دیکھا جائے تو یہی فتوے امام بریلوی اور ان کے مکتب فکر کے جداگانہ تشخص کا مدار ہیں، جس تشدد کی دہائی دی جاتی ہے وہی ان کی ذات کی پہچان اور پوری حیات کاعرفان ہے"۔[2]
حقیقت یہ ہے کہ امام احمدرضا بریلوی کے یہ فتوے کسی ذاتی یا گروہی مخاصمت کی بناء پر نہیں بلکہ سرکار دوعالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی عظمت اور تقدس کے تحفظ کے لئے دئے جو ہر مسلمان کا فرض ہے، ان کے ایك مکتوب کا کچھ حصہ پیش کیا جاتاہے جس کا ایك ایك لفظ ان کے درددل کا آئینہ ہے، ڈیرہ غازی خاں کے مولانا غلام یسین رحمہ الله تعالٰی علیہ کے نام ایك مکتوب میں فرماتے ہیں:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع